حیدرآباد

تلنگانہ کی سیاست میں نائیڈو کے داخلہ پر کانگریس اور بی آر ایس پریشان

نرنجن نے یہ بھی کہا کہ گر تلنگانہ اور آندھرا کے تلگو عوام کو تعاون کے ساتھ ترقی کرنی ہے تو نائیڈو کو تلنگانہ کی سیاست میں دلچسپی لینا چھوڑ دینا چاہئے۔ تلنگانہ ریاست میں ٹی ڈی پی کو ختم کردینا چاہیئے اور اسے آندھرا تک محدود رکھنا چاہیئے۔

حیدرآباد: آندھرا پردیش کے چیف منسٹر  این چندرا بابو نائیڈو کے 7 جولائی کو این ٹی آر ٹرسٹ بھون میں ایک جلسہ سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ تلنگانہ میں تلگودیشم پارٹی کی ماضی کی شان کو بحال کیا جائے گا۔ ان اس خطاب  نے کانگریس اور بی آر ایس قائدین کو بے چین کردیا ہے۔

متعلقہ خبریں
حیدرآباد دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت نہیں رہا
راجیہ سبھا کی مخلوعہ نشست کیلئے ہنمنت راؤ دعویدار
منی پور کا مسئلہ پارلیمنٹ میں پوری طاقت سے اٹھایا جائے گا: راہول گاندھی
ٹی سرینواس یادو کی کانگریس میں شمولیت کی قیاس آرائی
یوپی میں کانگریس’شکریہ یاترا’ نکالے گی

بی آر ایس قائدین نے آندھرا پردیش تنظیم نو ایکٹ پر غور و خوض کرنے کے بہانہ تلنگانہ آکر سیاسی بیان دینے پر نائیڈو کے خلاف سخت حملہ کیا۔ بی آر ایس کے سوشل میڈیا ونگ نے دو تلگو ریاستوں کے چیف منسٹرس چندرا بابو نائیڈو اور ریونت ریڈی کے درمیان بات چیت پر خدشات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

 بعد ازاں کانگریس قائدین بھی مورچہ سنبھال لیا اور تقریباً اسی انداز میں نائیڈو کے خلاف الزامات لگائے۔ ٹی پی سی سی کے سینئر نائب صدر جی نرنجن نے کہا کہ تلنگانہ کے لوگ حیدرآباد میں نائیڈو کے استقبال سے خوش نہیں ہیں۔

نرنجن نے یہ بھی کہا کہ گر تلنگانہ اور آندھرا کے تلگو عوام کو تعاون کے ساتھ ترقی کرنی ہے تو نائیڈو کو تلنگانہ کی سیاست میں دلچسپی لینا چھوڑ دینا چاہئے۔ تلنگانہ ریاست میں ٹی ڈی پی کو ختم کردینا چاہیئے اور اسے آندھرا تک محدود رکھنا چاہیئے۔

نائیڈو نے این ٹی آر بھون میں تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ تلنگانہ میں ٹی ڈی پی کو مضبوط کرنے میں دلچسپی لیں گے۔ نرنجن کی تنقید سے ایک دن پہلے، ٹی پی سی سی کے کار گزار صدر ٹی جگا ریڈی نے الزام لگایا کہ بی جے پی،ریاست تلنگانہ میں کانگریس کو کمزور کرنے کے لیے نائیڈو کا استعمال کر رہی ہے۔

 حکمراں کانگریس پارٹی اور مرکزی اپوزیشن پارٹی بی آر ایس دونوں جس طرح سے نائیڈو کو نشانہ بنا رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تلنگانہ میں ان کے داخلہ سے خوفزدہ ہیں اور اس حقیقت کو فراموش کر رہے ہیں کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی عوام کی حمایت کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔ ایک سیاسی تجزیہ کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا یہ ایک جمہوری ملک ہے اور ہر کسی کو ملک بھر میں کہیں بھی سیاست کرنے کا حق ہے جیسا کہ مہاراشٹرا میں سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کیا تھا۔

اگر لوگ نائیڈو کو پسند کرتے ہیں تو تلنگانہ میں ٹی ڈی پی زندہ رہے گی اگر نہیں تو یہ ممکن نہیں ہے۔ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آرہی ہے کہ بی آر ایس اور کانگریس قائدین نائیڈو کے داخلہ پر کیوں اعتراض کررہے ہیں۔

a3w
a3w