تلنگانہ

تلنگانہ کے چیف انجینئر کی معطلی پر تنازع، پاور یونینوں کا امتیازی کارروائی کا الزام

تلنگانہ میں یادادری تھرمل پاور اسٹیشن (YTPS) کے اسٹیج-1 کے چیف انجینئر سریش کی معطلی کے بعد محکمہ بجلی میں تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ GENCO کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر (CMD) کی جانب سے سریش کو معطل کیے جانے کے فیصلے پر پاور یونینوں اور انجینئرس اسوسی ایشنوں نے سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں یادادری تھرمل پاور اسٹیشن (YTPS) کے اسٹیج-1 کے چیف انجینئر سریش کی معطلی کے بعد محکمہ بجلی میں تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ GENCO کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر (CMD) کی جانب سے سریش کو معطل کیے جانے کے فیصلے پر پاور یونینوں اور انجینئرس اسوسی ایشنوں نے سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔

پاور یونینوں کا الزام ہے کہ بجلی کی پیداوار میں کمی اور کوئلے کی قلت جیسے مسائل کے لیے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے، جبکہ دیگر سینئر عہدیداروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔ انجینئروں نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے بیانات کے بعد محکمہ بجلی میں اپنے مستقبل اور انتظامی فیصلوں پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

کوئلے کی قلت کے باوجود انجینئر کی معطلی پر سوالات

پاور یونینوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر پاور پلانٹ کو بجلی پیدا کرنے کے لیے درکار مقدار میں کوئلہ ہی دستیاب نہیں ہے تو چیف انجینئر سریش کو کس بنیاد پر ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

یونینوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی پیداوار کا انحصار صرف انجینئروں کی کارکردگی پر نہیں بلکہ کوئلے کی دستیابی، انتظامی منصوبہ بندی اور دیگر عملی امور پر بھی ہوتا ہے۔ ان کے مطابق، ان تمام پہلوؤں کی جانچ کیے بغیر کسی ایک عہدیدار کے خلاف کارروائی کرنا مناسب نہیں ہے۔

اسٹیج-2 کے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں؟

پاور یونینوں نے یادادری تھرمل پاور اسٹیشن کے اسٹیج-2 کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اسٹیج-2 کے چیف انجینئر سوریہ نارائنا کے خلاف اسی طرح کی کارروائی نہیں کی گئی۔

یونینوں نے الزام لگایا کہ عہدیداروں کے خلاف کارروائی میں علاقائی بنیادوں پر فرق کیا جا رہا ہے۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

سینئر عہدیداروں کی ذمہ داری طے کرنے کا مطالبہ

پاور یونینوں نے تھرمل پاور کنسٹرکشن (TPC) کے چیف انجینئر پی وی سرینواس راؤ کے خلاف کارروائی نہ کیے جانے پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق، سرینواس راؤ پورے پاور پلانٹ کے تعمیراتی امور کے انچارج ہیں اور ان کی ذمہ داریوں کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔

اسی طرح، یونینوں نے تھرمل ڈائریکٹر راج شیکھر ریڈی کی ذمہ داری طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی کی پیداوار سے متعلق مسائل پر صرف ماتحت انجینئروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اعلیٰ انتظامی عہدیداروں سے بھی جواب طلب کیا جانا چاہیے۔

یونینوں کے مطابق، GENCO انتظامیہ اور ریاستی حکومت کو بھی بجلی کی پیداوار، کوئلے کی فراہمی اور انتظامی منصوبہ بندی میں پیش آنے والی مشکلات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

کلیدی عہدوں پر تعینات انجینئروں کے تبادلوں کا مطالبہ

پاور یونینوں کے رہنماؤں نے محکمہ بجلی کے اہم عہدوں پر خدمات انجام دینے والے آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے انجینئروں کے تبادلوں کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست کے بجلی کے اداروں میں جواب دہی اور انتظامی فیصلوں کے معاملے میں یکساں اصول اپنائے جانے چاہئیں۔

اس تنازع نے تلنگانہ کے بجلی کے شعبے میں عہدیداروں کی جواب دہی، علاقائی نمائندگی اور انتظامی فیصلوں کے طریقۂ کار پر بحث چھیڑ دی ہے۔

فی الحال، سریش کی معطلی کی وجوہات، کوئلے کی مبینہ قلت اور دیگر عہدیداروں کے خلاف کارروائی نہ کیے جانے سے متعلق GENCO انتظامیہ اور ریاستی حکومت کا تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ پاور یونینوں کے الزامات اور مطالبات پر مزید وضاحت کا انتظار ہے۔