ال نینو کے خدشات کے پیش نظر سائبرآباد میونسپل کارپوریشن کی پانی بچانے کی اپیل
ال نینو کے ممکنہ اثرات کے باعث بارش اور پانی کی دستیابی متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر سائبرآباد میونسپل کارپوریشن (سی ایم سی) نے شہریوں، بلڈرس، اپارٹمنٹ انتظامیہ اور تجارتی اداروں سے پانی کے محتاط استعمال اور تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔
حیدرآباد: ال نینو کے ممکنہ اثرات کے باعث بارش اور پانی کی دستیابی متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر سائبرآباد میونسپل کارپوریشن (سی ایم سی) نے شہریوں، بلڈرس، اپارٹمنٹ انتظامیہ اور تجارتی اداروں سے پانی کے محتاط استعمال اور تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔
کارپوریشن نے اپنے پیغام میں کہا کہ پانی کے وسائل کا مؤثر انتظام، غیر ضروری استعمال سے گریز اور صاف کیے گئے گندے پانی کا دوبارہ استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ایسے کاموں کے لیے ٹریٹڈ ویسٹ واٹر کے استعمال کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے، جن کے لیے پینے کے صاف پانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔
سی ایم سی نے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پیز) کے آپریٹرس کو ہدایت دی کہ وہ پانی صاف کرنے والے مراکز کی مناسب دیکھ بھال اور مؤثر کارکردگی کو یقینی بنائیں۔ صاف کیے گئے پانی کو معیار کے مقررہ اصولوں کے مطابق پارکوں کی دیکھ بھال، باغبانی اور دیگر مناسب مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔
بلڈرس اور ڈیولپرس کو مشورہ دیا گیا ہے کہ جہاں ممکن ہو، تعمیراتی کاموں میں صاف شدہ گندے پانی کا استعمال کیا جائے تاکہ تازہ پانی پر انحصار کم کیا جاسکے۔
کارپوریشن نے اپارٹمنٹ کمپلیکس اور تجارتی اداروں سے بھی کہا ہے کہ وہ پانی کی بچت کے لیے مقامی پودوں کو ترجیح دیں، مؤثر آبپاشی کے طریقے اپنائیں اور بارش کے پانی کو جمع کرنے کے نظام کی مناسب دیکھ بھال کریں۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پانی احتیاط سے استعمال کریں، نلوں اور پائپ لائنوں میں ہونے والے رساؤ کو فوری درست کروائیں اور پانی کے ضیاع سے گریز کریں۔
سی ایم سی نے واضح کیا کہ پانی کے استعمال پر کسی بھی لازمی پابندی کا نفاذ متعلقہ قوانین اور مجاز حکام کی ہدایات کے مطابق کیا جائے گا۔
کارپوریشن نے کہا کہ ممکنہ آبی قلت سے نمٹنے اور سائبرآباد میں پانی کے پائیدار انتظام کو یقینی بنانے کے لیے شہریوں، تجارتی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔