تلنگانہ

تلنگانہ میں برقی کی طلب نے ماضی کے تمام ریکارڈ پیچھے چھوڑ دئے

تلنگانہ میں بجلی کی طلب نے نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ 15 اکتوبر کو صبح 10 بج کر 29 منٹ پر ریاست میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب 20,003 میگاواٹ تک پہنچ گئی، جو اب تک کی سب سے زیادہ طلب ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں بجلی کی طلب نے نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ 15 اکتوبر کو صبح 10 بج کر 29 منٹ پر ریاست میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب 20,003 میگاواٹ تک پہنچ گئی، جو اب تک کی سب سے زیادہ طلب ہے۔ یہ گزشتہ مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ کی گئی 18,548 میگاواٹ کی بلند ترین طلب سے 1,455 میگاواٹ زیادہ ہے۔ اسی دن ریاست بھر میں بجلی کی مجموعی کھپت 334.54 ملین یونٹس ریکارڈ کی گئی۔

یکم اکتوبر سے 15 اکتوبر تک ریاست میں بجلی کی اوسط یومیہ زیادہ سے زیادہ طلب 19,289 میگاواٹ رہی، جبکہ روزانہ بجلی کی اوسط کھپت 321.34 ملین یونٹس درج کی گئی۔

تلنگانہ سدرن پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ کے دائرہ کار میں بھی بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ 15 اکتوبر کو کمپنی کے علاقوں میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب 12,281 میگاواٹ رہی، جبکہ روزانہ کھپت 228.14 ملین یونٹس تک پہنچ گئی۔ یہ گزشتہ سال کی بلند ترین یومیہ کھپت 222.34 ملین یونٹس سے 5.80 ملین یونٹس زیادہ ہے۔ اس سے قبل 30 ستمبر کو شام 4 بج کر 16 منٹ پر کمپنی کے علاقوں میں بجلی کی طلب 12,299 میگاواٹ ریکارڈ کی گئی تھی، جو گزشتہ مالی سال کی 11,318 میگاواٹ کی بلند ترین طلب سے زیادہ ہے۔

ریاستی دارالحکومت حیدرآباد میں بھی بجلی کی طلب میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے حدود میں 15 اکتوبر کو شام 6 بج کر 19 منٹ پر بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب 4,220 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔ وہیں 9 اکتوبر کو ان علاقوں میں یومیہ بجلی کی کھپت 88.22 ملین یونٹس ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ سال اکتوبر میں حیدرآباد میں بجلی کی بلند ترین طلب 3,552 میگاواٹ تھی۔

حکام کے مطابق، گھریلو اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ، آئی ٹی کمپنیوں اور صنعتی اداروں کی بڑھتی ہوئی ضروریات، نیز درجہ حرارت اور ہوا میں نمی کے باعث کولنگ آلات اور ایئر کنڈیشنر کے زیادہ استعمال کو بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کی اہم وجوہات قرار دیا جارہا ہے۔

تلنگانہ سدرن پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر جیتیش وی پاٹل نے کہا کہ بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سپلائی نظام کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے، تاکہ کسانوں، گھریلو صارفین، تجارتی اداروں، آئی ٹی کمپنیوں اور صنعتوں کو بلارکاوٹ بجلی فراہم کی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ زیر زمین پانی کی سطح میں کمی کے باعث بورویل اور زرعی موٹروں پر انحصار بڑھ رہا ہے، جس سے بجلی کے نظام پر اضافی دباؤ پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے بجلی کی خریداری کے ساتھ پیداوار اور تقسیم کی صلاحیت میں اضافے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ بجلی کا ضرورت کے مطابق استعمال کریں اور اسے ضائع ہونے سے بچائیں۔ ساتھ ہی پانی کے تحفظ پر بھی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

دوسری جانب، کسانوں کو بجلی سے متعلق مسائل سے فوری راحت فراہم کرنے کے لیے محکمہ کی جانب سے ’پولم باٹا‘ یعنی کھیتوں تک پہنچنے کی مہم چلائی جارہی ہے۔ اس کے تحت گزشتہ ایک ہفتے سے بجلی کے افسران اور ملازمین روزانہ صبح دیہات کا دورہ کررہے ہیں اور کھیتوں میں پہنچ کر کسانوں کے مسائل کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ان دوروں کے دوران زیر زمین پانی کی سطح، بورویل میں پانی کی دستیابی، زرعی موٹروں کی کارکردگی اور فصلوں کی صورتحال کا معائنہ کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ زرعی موٹروں، سروس تاروں اور بجلی کے ٹرانسفارمروں سے متعلق مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، تاکہ آبپاشی کے دوران بجلی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔

حکام نے فیلڈ عملے کو ہدایت دی ہے کہ زرعی صارفین کی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ کم وولٹیج، بجلی کی لائنوں میں خرابی اور ٹرانسفارمروں کی خرابی جیسے مسائل دور کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ زرعی برقی آلات کی احتیاطی دیکھ بھال بھی کی جارہی ہے، تاکہ فصلوں کی کاشت اور آبپاشی کے اہم مرحلے میں کسانوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جیتیش وی پاٹل نے بجلی کی ریکارڈ طلب کے باوجود سپلائی نظام کو برقرار رکھنے پر انجینئروں، فیلڈ ملازمین اور دیگر عملے کی کارکردگی کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ بجلی کی طلب میں اضافے سے نمٹنے کے ساتھ کسانوں کو بروقت مدد فراہم کرنے اور صارفین کو بہتر خدمات دینے کے لیے مسلسل اقدامات کررہا ہے۔