حضرت سیدہ کائنات فاطمۃ الزھراءؓ اصل اور نسل ہر دو لحاظ سے پاکیزہ، آپ کی سیرت خواتین امت کے لئے مشعل راہ: مولانا ڈاکٹر سید احمد غوری نقشبندی
ایک روایت میں یہ بھی وارد ہے کہ”اللہ تعالیٰ فاطمہ ؓ کے غضب سے غضبناک اور ان کی رضا سے راضی ہوتا ہے“۔ان خیالات کا اظہار مولانا ڈاکٹر مفتی سید احمد غوری نقشبندی نائب شیخ المعقولات جامعہ نظامیہ وڈائرکٹر مرکز انوار السنہ نے جامع مسجد قادری باغ عنبرپیٹ اور جامع مسجد حضرت بلالؓ۔این۔ایس۔کنٹہ میں نماز جمعہ سے قبل کیا۔
حیدرآباد: حضرت سیدہ کائنات فاطمہؓحضور اکرم ﷺکی سب سے چھوٹی شہزادی ہیں،اللہ تعالی نے آپ کوفضائل و کمالات کاجامع بنایا ہے،آپ اصل اور نسل دونوں اعتبار سے طاہرہ و مطہرہ ہیں اور قیامت تک آنے والی خواتین کے لئے کامل نمونہ ہیں۔سیدہ کائنات ؓکی عظمت قرآن کریم اور احادیثِ نبویہ سے ثابت شدہ ہے۔
آپ کا اسم گرامی خود آپ کی رفعتوں کا ثبوت ہے،حضرت نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:میں نے اپنی بیٹی کا نام”فاطمہ“ اس لئے رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان سے محبت رکھنے والوں کو آگ سے جدا فرما دیا ہے۔نیز آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا(جزوبدن)ہے؛جس نے فاطمہ ؓ کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔
ایک روایت میں یہ بھی وارد ہے کہ”اللہ تعالیٰ فاطمہ ؓ کے غضب سے غضبناک اور ان کی رضا سے راضی ہوتا ہے“۔ان خیالات کا اظہار مولانا ڈاکٹر مفتی سید احمد غوری نقشبندی نائب شیخ المعقولات جامعہ نظامیہ وڈائرکٹر مرکز انوار السنہ نے جامع مسجد قادری باغ عنبرپیٹ اور جامع مسجد حضرت بلالؓ۔این۔ایس۔کنٹہ میں نماز جمعہ سے قبل کیا۔
سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے مولانا نے سیدہ کائنات ؓ کے معروف القابات کی معنوی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے القابات میں ”زہراء،بتول،مبارکہ،زاکیہ،ذکیہ،راضیہ،مرضیہ“وغیرہ ہیں۔
”زہراء“روشن،بارونق کے معنی میں ہے،یہ لقب آپ کی نورانیت کی طرف اشارہ کررہا ہے،”بتول“دنیا سے بے رغبتی کی، طاہرہ و زاکیہ پاکیزگی کی، راضیہ و مرضیہ رضا بالقضا کی، جبکہ عابدہ اور زاہدہ عبادت و فقر کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ القابات محض الفاظ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے،حق تو یہ ہے کہ سیدہ کائنات ؓ کا مقام ان سے ارفع واعلی ہے۔
ڈاکٹر نقشبندی نے شاعرِ مشرق کے اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر حضرت مریمؑ ایک نسبت -حضرت عیسیؑ کی والدہ ہونے کی وجہ سے عزیز وبزرگ ہوئی ہیں توحضرت سیدہ فاطمہ ؓ تین عظیم نسبتوں سے عزیز وبزرگ تر ہیں:پہلی نسبت یہ کہ وہ سید الاولین و الآخرین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شہزادی ہیں،دوسری نسبت یہ کہ وہ صاحب ہل اتی،شیرِ خدا،حضرت علی مرتضی ؓ کی رفیقہئ حیات ہیں،اور تیسری نسبت یہ کہ وہ مرکز عشق اور عاشقان الہی کے قافلہ سالار حضرت سیدنا امام حسین ؓ کی والدہ ماجدہ ہیں۔
دوران خطاب مولانا نے جامع ترمذی کے حوالہ سے کہا کہ حضرت حذیفہ ؓ نے بیان کیا کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرشتہ کی طرف اشادہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:یہ فرشتہ پہلی مرتبہ زمین پر آیا ہے، اس نے اپنے پروردگار سے اجازت طلب کی کہ وہ میرے پاس حاضر ہوکر سلام عرض کرے اور مجھے یہ خوشخبری سنائے کہ فاطمہ ؓ جنتی خواتین کی سردارہیں اور حسن ؓ اور حسین ؓ جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا:سیدہ فاطمہؓ چال ڈھال، نشست و برخاست اور گفتاروکردار میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ تھیں۔
جب وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپﷺ کھڑے ہو کر استقبال فرماتے، بوسہ دیتے اور اپنی جگہ بٹھاتے، اور جب آپﷺ ان کے گھر تشریف لے جاتے تو وہ بھی اسی ادب و محبت کا مظاہرہ کرتیں۔مولانا نے کہا کہ اس حدیث سے قیام تعظیمی کا ثبوت بھی ملتا ہے۔
ہجرت کے دو سال بعد آپ کا نکاح حضرت علی مرتضیؓسے ہوا،معجم کبیر طبرانی میں ہے:حضرت نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا:اللہ تعالی نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں فاطمہؓکا نکاح علی ؓسے کراؤں۔آپ کے بطن مبارک سے تین شہزادے (حضرت امام حسنؓ،حضرت امام حسینؓ،حضرت امام محسنؓ) اور تین شہزادیاں (حضرت سیدہ زینبؓ،حضرت سیدہ ام کلثومؓ،حضرت سیدہ رقیہؓ)تولد ہوئیں۔
مولانا نے کہا کہ سیدہ کائنات ؓ کی ذریت طیبہ میں اللہ تعالی نے برکتیں رکھی ہیں، چنانچہ آپ کی اولادامجادمیں ائمہ،اقطاب،ابدال اولیاء اور علماء پیداہوئے نیزامام مہدی کا تعلق بھی سیدہ فاطمہ ؓ کی ذریت طیبہ سے ہوگا، حضرت رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:فاطمہ!خوشخبری ہے تمہارے لئے،مہدی،تمہاری اولاد سے ہوں گے۔
ڈاکٹر نقشبندی نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ اپنے دل میں اہل بیت اطہار کی محبت کو مستحکم کریں،حضرت رسول اللہ ﷺنے ان افراد کے بار ے میں شفاعت کا وعدہ فرمایا ہے جو اہل بیت کرامؓسے محبت رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ عمدہ برتاؤ کرتے ہیں۔
سیدہ فاطمہ الزہراء ؓ کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی سیرت کو اپنایا جائے۔حیا، صبر، عبادت، قناعت اور رضا بالقضا کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔
آج کی مسلم خواتین اگر سیرتِ سیدہ کائنات ؓ کو اپنا لیں تو معاشرہ پاکیزگی اور وقار،عصمت وعفت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔حضور اکرمﷺکے وصال مبارک کے تقریبا چھ ماہ بعد تین رمضان المبارک کو آپ کا وصال مبارک ہوا،اور جنت البقیع مدینہ منورہ میں آپ کی تدفین مبارک عمل میں آئی۔