پٹرول کی برآمد پر محصول میں اضافہ
حکومت نے پٹرول کی برآمد پر ونڈ فال ٹیکس 2 روپے فی لیٹر بڑھا دیا ہے، جبکہ ڈیزل پر محصول میں 7.50 روپے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے۔
نئی دہلی: حکومت نے پٹرول کی برآمد پر ونڈ فال ٹیکس 2 روپے فی لیٹر بڑھا دیا ہے، جبکہ ڈیزل پر محصول میں 7.50 روپے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے۔اس سلسلے میں جاری بالواسطہ ٹیکس اور کسٹم کے مرکزی بورڈ (سی بی آئی سی) کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ برآمد کیے جانے والے پٹرول پر آج سے 2.50 روپے فی لیٹر ایکسائز ڈیوٹی عائد ہوگی، جو پوری طرح خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی (ایس اے ای ڈی) کی شکل میں ہوگی۔
پہلے یہ 50 پیسے فی لیٹر تھی۔ اس طرح اس میں 2 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔برآمد کیے جانے والے ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی 16 روپے سے گھٹا کر 8.50 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ یہ بھی پوری طرح ایس اے ای ڈی کی شکل میں ہے۔ اس طرح اس میں 7.50 روپے کی کمی ہوئی ہے۔
وہیں برآمد کیے جانے والے ہوائی جہاز کے ایندھن پر محصول 10.50 روپے فی لیٹر برقرار رکھا گیا ہے۔برآمد کیے جانے والے پٹرول، ڈیزل اور ہوائی جہاز کے ایندھن پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کو ونڈ فال ٹیکس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
اس کا مقصد بین الاقوامی بازار میں ان کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے دوران زیادہ منافع کمانے کی لالچ میں برآمدات میں غیر معمولی اضافے کو روکنا ہے، تاکہ ملک میں کھپت کے لیے ان کی مناسب دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق، آج سے پٹرول، ڈیزل اور ہوائی جہاز کے ایندھن پر ونڈ فال ٹیکس کا جائزہ ہر 15 دن میں لیا جائے گا۔ پہلے ان کا باقاعدہ جائزہ ہر ماہ لیا جاتا تھا۔
حکومت نے مغربی ایشیا کے بحران کے دوران 27 مارچ 2026 سے ونڈ فال ٹیکس دوبارہ عائد کرنا شروع کیا تھا، جو اب تک جاری ہے۔ اس سے پہلے 2 سال سے زیادہ عرصے تک ان تینوں فوسل ایندھنوں پر کوئی ونڈ فال ٹیکس عائد نہیں تھا۔