تلنگانہ میں یاسنگی سیزن کے دوران دھان کی کاشت نہ کرنے کی ہدایت، کسانوں میں تشویش
تلنگانہ حکومت نے مبینہ طور پر یاسنگی (ربیع) سیزن کے دوران کسانوں کو دھان کی کاشت سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ دستیاب آبی ذخائر پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہی کافی ہیں اور آبپاشی کے لیے پانی فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس صورتحال نے ریاست کے کسانوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے مبینہ طور پر یاسنگی (ربیع) سیزن کے دوران کسانوں کو دھان کی کاشت سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ دستیاب آبی ذخائر پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہی کافی ہیں اور آبپاشی کے لیے پانی فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس صورتحال نے ریاست کے کسانوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔
تلنگانہ میں یاسنگی سیزن کے دوران تقریباً 80 لاکھ ایکڑ اراضی پر مختلف فصلیں کاشت کی جاتی ہیں، جن میں تقریباً 65 لاکھ ایکڑ پر دھان کی کاشت ہوتی ہے۔ دھان ریاست کی اہم زرعی فصلوں میں شامل ہے اور بڑی تعداد میں کسانوں کا ذریعہ معاش اس سے وابستہ ہے۔
ایسے میں حکومت کی جانب سے آبپاشی کے لیے پانی کی عدم دستیابی کا اظہار کسانوں کے لیے پریشانی کا سبب بن رہا ہے۔ کسان اس بات کو لے کر تذبذب کا شکار ہیں کہ موجودہ حالات میں کون سی فصل کاشت کی جائے اور پانی کی کمی کے باعث ہونے والے ممکنہ مالی نقصانات سے کس طرح بچا جائے۔
دھان کی کاشت کے لیے وافر مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے۔ اگر یاسنگی سیزن میں آبپاشی کے لیے مناسب پانی دستیاب نہیں ہوتا ہے تو اس کا اثر ریاست کے مختلف اضلاع میں زرعی سرگرمیوں پر پڑ سکتا ہے۔ کسانوں کو متبادل فصلوں کے انتخاب، ان کی لاگت اور پیداوار سے متعلق بھی فیصلے کرنے ہوں گے۔
دوسری جانب، پڑوسی ریاست آندھرا پردیش میں حکومت کی جانب سے آبپاشی کے منصوبوں کی تکمیل اور زرعی ضروریات کے لیے پانی فراہم کرنے کے اقدامات کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔ تلنگانہ کے کسان سوال کر رہے ہیں کہ جب آندھرا پردیش میں آبپاشی کے منصوبوں اور پانی کی فراہمی پر توجہ دی جا رہی ہے تو تلنگانہ میں کسانوں کو آبپاشی کے پانی کی قلت کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے۔
اس صورتحال نے ریاست میں آبی وسائل کے انتظام، ذخائر میں پانی کی سطح اور آبپاشی کے منصوبوں کی منصوبہ بندی پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کردی ہے۔
کسانوں کو توقع ہے کہ حکومت یاسنگی سیزن کے لیے پانی کی دستیابی کے بارے میں واضح موقف اختیار کرے گی اور متبادل فصلوں کی کاشت کے سلسلے میں مناسب رہنمائی فراہم کرے گی، تاکہ کسان بروقت اپنے فیصلے کرسکیں اور ممکنہ نقصانات کو کم کیا جا سکے۔