مشرق وسطیٰ

نیتن یاہو نے 7 اکتوبر کے حملے سے قبل مصری خفیہ ایجنسی کے سربراہ کی اسرائیل آمد کی تصدیق کردی، ملاقات سے انکار

اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے تصدیق کی ہے کہ مصر کے خفیہ ادارے کے سربراہ عباس کامل نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے سے چند روز قبل اسرائیل کا دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے ان سے ملاقات کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی سلامتی کے حکام حملے کا اندازہ لگانے میں ناکام رہے تھے۔

یروشلم: اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے تصدیق کی ہے کہ مصر کے خفیہ ادارے کے سربراہ عباس کامل نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے سے چند روز قبل اسرائیل کا دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے ان سے ملاقات کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی سلامتی کے حکام حملے کا اندازہ لگانے میں ناکام رہے تھے۔


نیتن یاہو نے منگل کو حکومت کے حامی چینل 14 کے پروگرام ‘دی پیٹریاٹس’ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عباس کامل سے ان کی ملاقات نہیں ہوئی تھی، کیونکہ اس وقت وہ اسرائیلی فوجیوں کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کر رہے تھے۔


انہوں نے کہا، ”وہ مجھ سے نہیں ملے، نہ ہی انہوں نے مجھ سے بات کی۔ خفیہ ادارے کا سربراہ کسی سربراہِ مملکت سے کب ملاقات کرتا ہے؟”


تاہم، نیتن یاہو نے 2021 میں عباس کامل کی یروشلم میں واقع اپنی سرکاری رہائش گاہ پر میزبانی کی تھی۔


اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ مصری خفیہ ادارے کے سربراہ نے اپنے دورے کے دوران کن لوگوں سے ملاقات کی تھی۔ ان کے مطابق، کامل اسرائیل میں تقریباً 50 منٹ تک رہے تھے۔


نیتن یاہو نے کہا، ”مصری خفیہ ادارے کے سربراہ یہاں آئے تھے۔ وہ تقریباً 50 منٹ تک یہاں رہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ انہوں نے کس سے ملاقات کی تھی۔”


اطلاعات کے مطابق، عباس کامل نے اسرائیلی حکام کو خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل قیدیوں کی رہائی اور اقتصادی مراعات سے متعلق معاہدے پر رضامند نہیں ہوتا تو حماس ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہی ہے۔


اس انتباہ سے متعلق پہلے سامنے آنے والی خبروں کے بعد نیتن یاہو کے دفتر نے اس بات کی تردید کی تھی کہ مصر نے اسرائیل کو حملے کے بارے میں پیشگی اطلاع دی تھی۔ دفتر کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے قیام کے بعد سے وزیر اعظم کی نہ تو کامل سے ملاقات ہوئی اور نہ ہی ان سے بات چیت ہوئی۔


عباس کامل کا یہ دورہ ان متعدد مبینہ انتباہات میں سے ایک ہے جو 7 اکتوبر کے حملے سے قبل اسرائیلی حکام کو موصول ہوئے تھے، لیکن اطلاعات کے مطابق ان پر کارروائی نہیں کی گئی۔ نیتن یاہو پیشگی اطلاع ملنے کی تردید کرتے رہے ہیں اور حملے کے حوالے سے ناکامیوں کی ذمہ داری سلامتی کے اداروں پر ڈالتے رہے ہیں۔


انٹرویو کے دوران نیتن یاہو نے ان الزامات کو بھی مسترد کردیا کہ انہوں نے غزہ سے متعلق ایک قابلِ عمل معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی تھی، جس کے تحت یرغمالیوں کی پہلے رہائی ممکن ہوسکتی تھی۔ ان میں بعض ایسے یرغمالی بھی شامل تھے جو بعد میں قید کے دوران ہلاک ہوگئے۔


انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ موجود نہیں تھا۔ ان کے مطابق، پیش کردہ تجاویز کا مطلب غزہ میں مکمل طور پر ہتھیار ڈالنا تھا اور ان سے تمام یرغمالیوں کی واپسی کی ضمانت بھی نہیں ملتی۔


نیتن یاہو نے ایک بار پھر اسرائیلی انٹیلی جنس اور فوجی سربراہوں پر الزام لگایا کہ 7 اکتوبر کی رات حماس کے حملے کے آثار موجود ہونے کے باوجود انہوں نے انہیں نیند سے نہیں جگایا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اعلیٰ حکام کو خدشہ تھا کہ وزیر اعظم کو خبردار کرنے سے ان کی جانب سے سخت جوابی کارروائی ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں تنازع وسیع ہوجاتا۔


نیتن یاہو کے مطابق، انٹیلی جنس اور فوجی حکام کا خیال تھا کہ حماس محض فوجی مشق کر رہی ہے یا کسی محدود کارروائی کی تیاری میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکام نے حماس کے ارکان کو اپنے فون میں اسرائیلی سم کارڈ ڈالتے اور سینئر کمانڈروں کو زیرِ زمین جاتے ہوئے دیکھا تھا، لیکن اس کے باوجود انہیں یقین تھا کہ یہ سرگرمیاں کسی بڑے حملے کی علامت نہیں ہیں۔


نیتن یاہو نے کہا، ”وہ اس تصور پر پوری طرح قائم تھے کہ یہ محض ایک مشق ہے یا کوئی چھوٹی موٹی کارروائی۔”


انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر انہیں بروقت خبردار کردیا جاتا تو وہ فوری طور پر حفاظتی اقدامات کا حکم دیتے، جن میں فضائیہ کو ہائی الرٹ پر رکھنا اور نووا میوزک فیسٹیول منسوخ کرنا شامل تھا۔


انہوں نے کہا، ”اگر وہ مجھے جگا دیتے تو انہیں معلوم تھا کہ میں سب کو بیدار کردیتا، نووا فیسٹیول منسوخ کروا دیتا اور فضائیہ کو ہائی الرٹ پر رکھتا۔”


نیتن یاہو نے مزید کہا کہ سلامتی کے حکام کو خدشہ تھا کہ انہیں جگانے سے صورتِ حال غیر ارادی طور پر مزید بگڑ سکتی ہے۔


ان کے بقول، سلامتی کے سربراہوں کا خیال تھا، ”اگر ہم وزیر اعظم کو جگا دیں گے تو وہ غیر ارادی طور پر حماس کو ہم پر حملہ کرنے پر مجبور کردیں گے۔”