وزیراعظم سے حج فارم 2023 جلد از جلد جاری کرانے کا مطالبہ

جبکہ حج 2023 کا فارم آج 23 جنوری ہے اسے نومبر کے پہلے ہفتہ یا زیادہ سے زیادہ دوسرے ہفتہ میں حج کمیٹی آف انڈیا کو وزارت کو بھیج دینا چاہیے تھا لیکن آج تک ایشو نہیں ہوسکا ہے۔

نئی دہلی: ملک کے عازمین حج کو سہولت دلانے کے لیے کوشاں حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق ممبر حافظ نوشاد احمد اعظمی نے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے عازمین حج کو پریشانیوں سے بچانے کےلیے حج 2023 کا فارم بلاتاخیر ایشو کرانے کےلیے وزارت حج کو جلدہدایات جاری کریں ۔

مسٹر اعظمی نے وزیر اعظم کو اس سلسلے میں آج ایک خط بذریعہ ای میل بھیجا ہے جس کی کاپی ایس جے شنکر وزیر خارجہ اور محترمہ اسمتی ایرانی جن کے پاس وزارت حج کا محکمہ بھی ہے بھیجا ہے اوراس کی کاپی پریس کو جاری کرتے ہوئے انھوں نے الزام لگایا کہ جولائی 2022 میں وزارت حج کا چارج وزیر موصوفہ کے پاس آگیا تھا اور اس وقت سے عملی طور سے انھوں نے ملک کے عازمین حج کو پریشانیوں سے بچانے کے لئے اور اچھا انتظام کرنے کے لیے کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی اور آج حالات یہ ہیں کہ پورے ملک کے مسلمان سخت پریشانیوں میں مبتلا ہیں اور اگر جائیں گے تو کتنی پریشانیوں کا سامنا ہوگا۔

مسٹر اعظمی نے خط میں لکھا ہے حج 2019 کا فارم17 اکتوبر 2018 میں ایشو ہوگیا تھا اور 2020 کا حج فارم 10 اکتوبر 2019 کو اور 2022 کا حج فارم یکم نومبر 2021 کو ویب سائٹ پہ ڈال دیاگیا تھا جبکہ حج 2023 کا فارم آج 23 جنوری ہے اسے نومبر کے پہلے ہفتہ یا زیادہ سے زیادہ دوسرے ہفتہ میں حج کمیٹی آف انڈیا کو وزارت کو بھیج دینا چاہیے تھا لیکن آج تک ایشو نہیں ہوسکا ہے اس میں کیا پریشانیاں ہوں گی عازمین حج مکان کس کیٹیگری کا لیں گے وہ تعداد پتہ چل جاتی ہے تو اسی لحاظ سے حج کمیٹی اور کاؤنسلیٹ مل کر مکہ اور مدینہ میں رہائش کا انتظام کرتے ہیں اور فارم ہی کے ذریعہ یہ پتہ چلتا ہے کہ کس امبارگیشن پوائنٹ سے کتنے حاجی جائیں گے اس لحاظ سے وزارت شہری ہوابازی سب سے مل جل کر کے وہ سفر کا نظم کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ حاجیوں کو ٹریننگ وغیرہ دی جاتی ہے اور بہت سی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو وہاں حاجیوں کے لیے ضروری ہوتی ہیں یہ سب کچھ ابھی باقی ہے۔

خط میں انھوں نے لکھا ہے کہ حج ایکٹ 2002 اور برسہابرس کی قدیمی روایت جن کو قانونی درجہ حاصل ہوجاتا ہےاس کی صریح خلاف ورزی وزات کے ذریعہ ہوتی چلی آرہی ہے جوکسی بھی طرح مناسب نہیں ہے واضح رہے کہ حج کمیٹی آف انڈیا کے ذریعہ جو حج ہورہاہے اس کا ایک ایک پیسہ ملک کے عازمین حج دیتے ہیں صرف غیر ممالک کا سفر ہونے کے ناطے حکومت کے انتظام کی ہمیں محتاجی ہے۔

مسٹر اعظمی نے خط میں لکھا ہے کہ وہ 25 برسوں سے غیر سیاسی طریقہ سے حاجیوں کی خدمت کررہے ہیں اور کسی سیاسی جماعت کے ممبر بھی نہیں ہیں انھوں نے اپنے تجربہ کی بنیاد پر کہاکہ ملک میں بہت سی حکومتیں اور وزیر آئے گئے مگر سفر حج اپنے وقت پہ سعودی گائڈ لائن کےمطابق ہوتا رہاہے۔

انھوں نے کہا کہ سفر حج جس کا ذکر آئین میں ہے موجودہ وزیر اور وزارت اس سلسلے میں قطعی طور سے سنجیدہ نہیں ہیں اور پورے ملک کے عازمین حج اور مسلمان ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ انھوں نے وزیر اعظم سے اس سلسلے میں فوراً مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ بلاتاخیر حج فارم ایشو کرایا جائےاور اس سلسلے میں جنگی پیمانہ پہ اچھے انتظامات کرنے کی کوشش کی جائے۔

...رشتوں کا انتخاب
...اب اور بھی آسان

لڑکی ہو یا لڑکا، عقد اولیٰ ہو یا عقد ثانی
اب ختم ہوگی آپ کی تلاش اپنے ہمسفر کی

آج ہی مفت رجسٹر کریں اور فری سبسکرپشن حاصل کرکے منصف میٹریمونی کے تمام فیچرس سے استفادہ کریں۔

آج ہی مفت رجسٹر کریں اور منصف میٹریمونی کے تمام فیچرس سے استفادہ کریں۔

www.munsifmatrimony.com

تبصرہ کریں

Back to top button