گجرات میں یکساں سیول کوڈ کا شوشہ

چیف منسٹردہلی وعام آدمی پارٹی سربراہ اروندکجریوال نے جو اسمبلی الیکشن کی مہم چلانے گجرات میں ہیں آج کہا کہ بی جے پی گجرات میں یکساں سیول کوڈ(یوسی سی) لاگوکرنے کی بات کرکے لوگوں کو اُلو بنارہی ہے۔

نئی دہلی: چیف منسٹردہلی وعام آدمی پارٹی سربراہ اروندکجریوال نے جو اسمبلی الیکشن کی مہم چلانے گجرات میں ہیں آج کہا کہ بی جے پی گجرات میں یکساں سیول کوڈ(یوسی سی) لاگوکرنے کی بات کرکے لوگوں کو اُلو بنارہی ہے۔

انہوں نے بی جے پی کی ریاستی حکومت کی نیت پرشبہ کرتے ہوئے کہا کہ برسرِ اقتدار جماعت نے یہی وعدہ اتراکھنڈاسمبلی الیکشن میں کیاتھا لیکن الیکشن جیتنے کے بعد اس نے وہاں یکساں سیول کوڈ لاگو نہیں کیا۔

اروندکجریوال نے کہا کہ الیکشن جیتنے کے بعد بی جے پی نے اتراکھنڈ میں کمیٹی بنادی تھی جو بعد میں غائب ہوگئی۔ اب ان لوگوں نے گجرات الیکشن سے تین دن قبل کمیٹی بنائی ہے جو انتخابات کے بعد غائب ہوجائے گی۔

بھاؤنگر میں پریس کانفرنس سے خطاب میں اروندکجریوال نے کہا کہ یکساں سیول کوڈ لاگوہوناچاہئیے کیونکہ دستور کی دفعہ 44میں واضح طور پرکہاگیاکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن اسے تمام فرقوں کی صلاح ومشورہ اور ان کی مرضی سے لاگوکرناچاہئیے۔

چیف منسٹر دہلی نے سوال کیاکہ مدھیہ پردیش اور اترپردیش میں بی جے پی نے اسے کیوں لاگو نہیں کیا جہاں وہ برسرِ اقتدار ہے؟۔ سارے ملک میں اسے کیوں لاگونہیں کیاجارہا ہے؟۔ کیا بی جے پی والوں کو لوک سبھا الیکشن کا انتظار ہے؟۔

بی جے پی نے کل کہاتھا کہ وہ یکساں سیول کوڈ متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ پیچیدہ مسئلہ ہے۔ اگر یہ قانون لاگو ہوگیاتو پرسنل لاز ختم ہوجائیں گے۔ کانگریس نے بھی اسے نشانہ تنقید بنایا اور کہا کہ یہ ہندو اکثریت کے ووٹ بٹورنے کا حربہ ہے۔

حکومت گجرات نے گجرات ہائی کورٹ کے ایک موظف جج کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرنا تجویز کیا ہے۔ یہ کمیٹی بی جے پی زیراقتدار اتراکھنڈ کے خطوط پر بنے گی۔ کمیٹی جائزہ لے گی کہ یکساں سیول کوڈ کیسے لاگوکیاجاسکتا ہے۔

...رشتوں کا انتخاب
...اب اور بھی آسان

لڑکی ہو یا لڑکا، عقد اولیٰ ہو یا عقد ثانی
اب ختم ہوگی آپ کی تلاش اپنے ہمسفر کی

آج ہی مفت رجسٹر کریں اور فری سبسکرپشن حاصل کرکے منصف میٹریمونی کے تمام فیچرس سے استفادہ کریں۔

آج ہی مفت رجسٹر کریں اور منصف میٹریمونی کے تمام فیچرس سے استفادہ کریں۔

www.munsifmatrimony.com

تبصرہ کریں

Back to top button