کرناٹک

دروپدی مرمو کے خلاف کرناٹک کانگریس کی شکایت

تربیتی اجلاس کے بہانہ ارکان اسمبلی کو آرام دہ کمرے‘ غذا‘ شراب اور تفریح کا سامان فراہم کیا گیا۔ 18جولائی کو تمام وزرا‘ ارکان اسمبلی اور بی جے پی کے دیگر قائدین ووٹ ڈالنے بی ایم ٹی سی کی ایرکنڈیشنڈ بسوں میں ہوٹل سے ودھان سودھا پہنچے۔

بنگلورو: کرناٹک پردیش کانگریس نے این ڈی اے کی صدارتی امیدوار دروپدی مرمو اور دیگر کے خلاف منگل کے دن الیکشن کمیشن بنگلورو میں 18 جولائی کے صدارتی الیکشن میں قانون کی خلاف ورزی کی شکایت درج کرائی ہے۔ کانگریس نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ ریٹرننگ آفیسر کو ہدایت دے کہ ودھان سودھا بنگلورو میں دروپدی مرمو کے حق میں ڈالے گئے تمام ووٹ رد کردے۔

ایسا کرنا آزادانہ و منصفانہ الیکشن کے مفاد میں ہوگا۔ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ دروپدی مرمو کی ایماء پر چیف منسٹر کرناٹک بسواراج بومئی‘ بی جے پی کے ریاستی صدر نلین کمار‘ بی جے پی کے سینئر قائد بی ایس یدی یورپا‘ بی جے پی کے چیف وہپ ستیش ریڈی‘ وزرا اور دیگر سینئر قائدین نے متحد ہوکر اپنی پارٹی کے تمام ارکان اسمبلی کو 17جولائی کو بنگلوروکی ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں طلب کرلیا تھا۔

 اس ہوٹل میں تربیتی اجلاس کے بہانہ ارکان اسمبلی کو آرام دہ کمرے‘ غذا‘ شراب اور تفریح کا سامان فراہم کیا گیا۔ 18جولائی کی صبح تقریباً تمام وزرا‘ ارکان اسمبلی اور بی جے پی کے دیگر قائدین ووٹ ڈالنے بی ایم ٹی سی کی ایرکنڈیشنڈ بسوں میں ہوٹل سے ودھان سودھا پہنچے۔ یہ سب کچھ پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا میں آچکا ہے۔

 بی جے پی قائدین کی یہ حرکتیں مرمو کی ایماء پر ووٹرس یعنی ارکان اسمبلی کو رشوت دینے اور ان پر غیرضروری اثر ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس طرح بی جے پی قیادت نے ارکان اسمبلی کے انتخابی حقوق میں مداخلت کی۔ ہوٹل سے ودھان سودھا جانے کے لئے بس یا دوسری گاڑیاں فراہم کرنا بھی غلط ہے۔

 کانگریس نے کہا کہ ہوٹل کا بل چیف منسٹراور بی جے پی قیادت کی طرف سے ادا کیا جانا انڈین پینل کوڈ کی دفعات 171b‘ 171C‘ 171E  اور 171F کے خلاف ہے۔ ان دفعات کو پریسیڈنشیل اینڈ وائس پریسیڈنشیل الیکشن ایکٹ 1952کی دفعہ 181a کے ساتھ ملاکر پڑھا جائے۔

 کانگریس نے الیکشن کمیشن سے گزارش کی کہ این ڈی اے کی صدارتی امیدوار دروپدی مرمو‘ چیف منسٹر کرناٹک بسواراج بومئی اور دیگر قائدین کی انتخابی خلاف ورزیوں کا نوٹ لیا جائے۔ ان کے خلاف فوجداری کیس درج ہو۔شکایت پر قائد اپوزیشن سدارامیا‘ صدر پردیش کانگریس ڈی کے شیوکمار اور قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن بی کے ہری پرساد نے دستخط کئے ہیں۔