ہندوؤں کو بچوں کی شادی کیلئے مسلم فارمولہ اپنانا چاہیے: اجمل

آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کے سربراہ بدرالدین اجمل نے یہ کہتے ہوئے تنازعہ کھڑا کر دیا ہے کہ ہندوؤں کو اپنے بچوں کی کم عمری کی شادی کے سلسلے میں مسلم فارمولے پر عمل کرنا چاہیے۔

گوہاٹی: آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کے سربراہ بدرالدین اجمل نے یہ کہتے ہوئے تنازعہ کھڑا کر دیا ہے کہ ہندوؤں کو اپنے بچوں کی کم عمری کی شادی کے سلسلے میں مسلم فارمولے پر عمل کرنا چاہیے۔

اجمل نے کہا، "قانونی عمر کے مطابق، مسلم مردوں کی 20-22 سال کی عمر میں اور مسلم خواتین کی 18 سال کی عمر میں شادی ہوتی ہے۔ دوسری طرف ہندو شادی سے پہلے ایک، دو یا تین ناجائز بیویاں رکھتے ہیں۔

وہ بچوں کو جنم نہیں دیتے، لطف اندوز ہوتے ہیں اور پیسے بچاتے ہیں۔ چالیس سال کی عمر کے بعد والدین کے دباؤ میں شادی کرلیتے ہیں۔

اس لئے کوئی کیسے امید کر سکتا ہے کہ اس کے بعد ان کے بچے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوؤں کو بھی مسلمانوں کے فارمولے پر عمل کرنا چاہیے اور اپنے بیٹوں کی شادی 20-22 سال کی عمر میں اور لڑکیوں کی 18-20 سال کی عمر میں کرانی چاہیے۔ پھر دیکھیں کتنے بچے پیدا ہوتے ہیں۔

...رشتوں کا انتخاب
...اب اور بھی آسان

لڑکی ہو یا لڑکا، عقد اولیٰ ہو یا عقد ثانی
اب ختم ہوگی آپ کی تلاش اپنے ہمسفر کی

آج ہی مفت رجسٹر کریں اور فری سبسکرپشن حاصل کرکے منصف میٹریمونی کے تمام فیچرس سے استفادہ کریں۔

آج ہی مفت رجسٹر کریں اور منصف میٹریمونی کے تمام فیچرس سے استفادہ کریں۔

www.munsifmatrimony.com

تبصرہ کریں

Back to top button