امریکہ و کینیڈا

ٹرمپ نے بحر اوقیانوس یا بحرالکاہل کا نام بدل کر ‘ٹرمپ اوشن’ رکھنے کی تجویز پیش کی

واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی انہوں نے 'خلیج میکسیکو' کا نام بدلنے اور 'جھیل اونٹاریو' کا نیا نام رکھنے کی تجویز پیش کی تھی۔ اب وہ اہم جغرافیائی مقامات کے نام بدلنے کی اپنی کوششوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بحر اوقیانوس یا بحرالکاہل کا نام بدل کر ‘ٹرمپ اوشن’ یا ‘ اوشن آف دی امریکہ’ رکھنے کی تجویز پیش کی ہے۔


واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی انہوں نے ‘خلیج میکسیکو’ کا نام بدلنے اور ‘جھیل اونٹاریو’ کا نیا نام رکھنے کی تجویز پیش کی تھی۔ اب وہ اہم جغرافیائی مقامات کے نام بدلنے کی اپنی کوششوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔


مسٹر ٹرمپ نے ٹینیسی کے کلارکس وِل میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ”ہمارے پاس ایک خلیج ہے۔ ہمارے پاس ایک خوبصورت جھیل ہے۔” انہوں نے کہاکہ ”اب کسی نے کہا کہ آپ کو ایک دریا کی بھی ضرورت ہے… ہمیں ایک دریا چاہیے۔ ہمیں ایک سمندر چاہیے۔”


اس کے بعد مسٹر ٹرمپ نے دونوں بڑے سمندروں میں سے کسی ایک کا نام بدلنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہاکہ ”تو میں سوچ رہا تھا کہ اگر ہم بحر اوقیانوس یا بحرالکاہل میں سے کسی ایک کا نام ‘ٹرمپ اوشن’ یا ‘اوشن آف دی امریکہ’ یا اس طرح کا کچھ رکھ دیں تو کیسا رہے گا۔”


ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق، انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ وہ عہدہ چھوڑنے سے پہلے کسی بڑے دریا کا نام بدلنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ سال مسٹر ٹرمپ نے ‘گلف آف میکسیکو’ کا نام بدل کر ‘ گلف آف امریکہ’ کر دیا تھا، جس سے میکسیکو کے ساتھ سفارتی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔

انہوں نے اگست 2026 میں اوٹاوا کے ساتھ تجارتی کشیدگی کے دوران امریکہ اور کناڈا کی سرحد پر واقع ‘جھیل اونٹاریو’ کا نام بدل کر ‘جھیل امریکہ’ کرنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر بھی دستخط کیے تھے۔


یہ تازہ تجویز اہم جغرافیائی مقامات کے نام بدلنے کے لیے مسٹر ٹرمپ کی جانب سے بار بار پیش کی جانے والی تجاویز کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔