ایران میں 13 صحت مراکز نشانہ بنائے گئے: ڈبلیو ایچ او
ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ یا کسی بھی مسلح تنازع کے دوران اسپتالوں اور صحت کے مراکز کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے
جنیوا : عالمی ادارۂ صحت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی اور امریکی حملوں میں ایران کے 13 صحت مراکز نشانہ بنائے جا چکے ہیں۔
ادارے کے مطابق ان حملوں میں ایران کے 4 ہیلتھ ورکر شہید اور 25 زخمی ہوئے، اسرائیل نے لبنان میں بھی ایک صحت مرکز کو نشانہ بنایا، تہران میں فٹ بال اسٹیڈیم بھی تباہ کر دیا گیا۔
ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملے مسلسل چھٹے روز بھی جاری ہیں،
ڈبلیو ایچ او کے مطابق حملوں کے باعث متعدد اسپتالوں اور کلینکس کو نقصان پہنچا ہے جبکہ طبی عملے اور مریضوں کی سلامتی کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ادارے نے کہا کہ صحت کے مراکز اور طبی عملے کو کسی بھی تنازع کے دوران تحفظ حاصل ہونا چاہیے کیونکہ یہ بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت محفوظ ادارے تصور کیے جاتے ہیں۔
ادارے کے ترجمان کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں کئی طبی مراکز عارضی طور پر بند ہو گئے ہیں جس سے زخمیوں اور مریضوں کے علاج میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ صحت کے مراکز پر حملے نہ صرف انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ پورے طبی نظام کو مفلوج کر دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ صحت مراکز میں ایمرجنسی سروسز، بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنے والے کلینکس اور کچھ خصوصی علاج کے مراکز بھی شامل ہیں۔ حملوں کے باعث طبی آلات کو نقصان پہنچا جبکہ کئی جگہوں پر بجلی اور دیگر ضروری سہولیات بھی متاثر ہوئی ہیں۔
ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ یا کسی بھی مسلح تنازع کے دوران اسپتالوں اور صحت کے مراکز کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔