تلنگانہ

تلنگانہ میں بارش کی 23 فیصد کمی، حیدرآباد کی صورتحال تشویشناک؛ کیا اب ملے گی راحت؟

ملک بھر سے جنوب مغربی مانسون کی واپسی کا عمل 15 اکتوبر کو مکمل ہوگیا ہے، تاہم تلنگانہ میں آئندہ چند ہفتوں کے دوران بارش ہونے کی امید برقرار ہے۔ جنوبی ہندوستان کے بعض علاقوں، بشمول ساحلی آندھرا پردیش اور رائلسیما میں شمال مشرقی مانسون شروع ہوچکا ہے، جس کے باعث تلنگانہ میں بھی بارش کے امکانات پر نظر رکھی جارہی ہے۔

حیدرآباد: ملک بھر سے جنوب مغربی مانسون کی واپسی کا عمل 15 اکتوبر کو مکمل ہوگیا ہے، تاہم تلنگانہ میں آئندہ چند ہفتوں کے دوران بارش ہونے کی امید برقرار ہے۔ جنوبی ہندوستان کے بعض علاقوں، بشمول ساحلی آندھرا پردیش اور رائلسیما میں شمال مشرقی مانسون شروع ہوچکا ہے، جس کے باعث تلنگانہ میں بھی بارش کے امکانات پر نظر رکھی جارہی ہے۔

اس سال جون سے ریاست میں معمول سے کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے، ایسے میں یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ آیا سال کے اختتام سے قبل بارش کی کمی کسی حد تک پوری ہوسکے گی۔

تلنگانہ اسٹیٹ ڈیولپمنٹ پلاننگ سوسائٹی کے اعداد و شمار کے مطابق، ریاست میں یکم جون سے 15 اکتوبر تک مجموعی طور پر 615.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس مدت میں معمول کی بارش 795.7 ملی میٹر ہونی چاہیے تھی۔ اس طرح ریاست میں بارش کی مجموعی کمی 23 فیصد رہی۔

حیدرآباد کی صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویش ناک ہے۔ ضلع میں اس مدت کے دوران 458.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ معمول کے مطابق 700.2 ملی میٹر بارش ہونی چاہیے تھی۔ اس طرح حیدرآباد میں بارش کی کمی 35 فیصد رہی۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن، سائبرآباد میونسپل کارپوریشن اور میڈچل میونسپل کارپوریشن کے علاقوں میں بھی مجموعی بارش معمول سے 33 فیصد کم ریکارڈ کی گئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق، ملک میں بارش کے دو اہم موسم ہوتے ہیں۔ جنوب مغربی مانسون عموماً جون سے ستمبر تک بارش برساتا ہے اور ملک کی زیادہ تر سالانہ بارش اسی دوران ہوتی ہے۔ اس کے بعد شمال مشرقی مانسون اکتوبر سے دسمبر تک جنوبی ہندوستان کے کئی علاقوں میں بارش کا اہم ذریعہ بنتا ہے۔ اس موسم میں خلیج بنگال سے آنے والی مرطوب ہوائیں جنوبی ہندوستان میں بارش کا سبب بنتی ہیں۔

محکمہ موسمیات نے 15 اکتوبر کو تمل ناڈو، پڈوچیری، کرائیکل، ساحلی آندھرا پردیش، رائلسیما، جنوبی داخلی کرناٹک، کیرالا اور ماہے میں شمال مشرقی مانسون شروع ہونے کا اعلان کیا۔ جنوبی ساحلی تمل ناڈو اور اس کے آس پاس فضا میں ہوا کے کم دباؤ سے متعلق گردش اور مشرقی و شمال مشرقی ہواؤں کے قائم ہونے سے مانسون کی آمد میں مدد ملی۔

تاہم، شمال مشرقی مانسون تلنگانہ کے لیے تمل ناڈو کی طرح اہم نہیں ہے۔ اکتوبر سے دسمبر کے دوران تلنگانہ میں معمول کے مطابق تقریباً 110.2 ملی میٹر بارش ہوتی ہے، جو ریاست کی سالانہ معمول کی بارش 923.8 ملی میٹر کا تقریباً 12 فیصد ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، تلنگانہ میں اکتوبر کے دوران معمول کی بارش 90.1 ملی میٹر ہے۔ 15 اکتوبر تک ریاست میں اس مہینے کے دوران 59.1 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس مدت کے لیے معمول کی بارش 55.1 ملی میٹر تھی۔ اس طرح اکتوبر کے پہلے پندرہ دنوں میں بارش معمول سے کچھ زیادہ رہی ہے۔

دوسری جانب، 15 اکتوبر کو ریاست میں اوسط بارش صفر ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس دن معمول کی بارش 2.4 ملی میٹر ہوتی ہے۔ صرف بھدرادری کتہ گوڑم ضلع کے اشواراؤ پیٹ میں 0.4 ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ گریٹر حیدرآباد، سائبرآباد اور میڈچل میونسپل کارپوریشن کے علاقوں میں کہیں بھی بارش ریکارڈ نہیں کی گئی۔

ماہرین کے مطابق، پڑوسی ریاستوں میں شمال مشرقی مانسون شروع ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ تلنگانہ میں بھی بڑے پیمانے پر بارش ہوگی۔ ریاست میں بارش کا انحصار خلیج بنگال میں بننے والے موسمی نظام، ہوا میں نمی اور ہوا کے کم دباؤ جیسے حالات پر ہوگا۔ اگر موافق موسمی حالات پیدا ہوئے تو تلنگانہ کے بعض علاقوں میں بارش ہوسکتی ہے، تاہم فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس سے پورے موسم میں بارش کی کمی پوری ہوجائے گی۔

تلنگانہ کے کئی اضلاع میں بارش کی کمی نمایاں طور پر دیکھی گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جوگولامبا گدوال ضلع میں معمول سے 49 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ نارائن پیٹ میں 42 فیصد، نلگنڈہ میں 41 فیصد اور ناگرکرنول میں 40 فیصد بارش کی کمی درج کی گئی۔ اس کے برعکس ریاست کے 12 اضلاع میں بارش معمول کی حد کے اندر رہی۔

اب سب کی نظریں آئندہ چند ہفتوں کے موسمی حالات پر مرکوز ہیں کہ آیا شمال مشرقی مانسون تلنگانہ، خصوصاً حیدرآباد اور بارش کی کمی سے متاثرہ اضلاع کو کچھ راحت فراہم کرسکے گا یا نہیں۔