بھکاری کی 21 بیویاں! ایک ہی جھونپڑی میں سب کے ساتھ رہائش(ویڈیو)
مورو میاں نے بتایا کہ شادی کی پیشکش کرنے والی کئی خواتین عمر میں اس سے بڑی تھیں۔ تاہم، وہ ان کی پیشکش مسترد کرنا مناسب نہیں سمجھتا تھا۔ اس کے مطابق، کسی خاتون کی شادی کی خواہش کو ٹھکرانا اسے بے عزتی محسوس ہوتا تھا۔
ڈھاکہ: عام طور پر ایک یا دو بیویوں کے ساتھ خاندانی ذمہ داریاں نبھانا بھی مشکل سمجھا جاتا ہے، لیکن بنگلہ دیش کے ایک 35 سالہ شخص کی 21 بیویاں ہونے کا دعویٰ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق، مورو میاں نامی یہ شخص بھیک مانگ کر اپنا گزر بسر کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اسے بعض اوقات اپنی تمام بیویوں کے نام یاد رکھنے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔
مورو میاں کے مطابق، اس نے کبھی خواتین کے پیچھے پڑ کر شادی کی کوشش نہیں کی، بلکہ خواتین خود اس کے پاس آتی ہیں اور شادی کی پیشکش کرتی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے نہیں معلوم کہ خواتین کو اس میں کیا پسند آتا ہے۔ اس نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اس سوال کا جواب تو وہی خواتین دے سکتی ہیں، جو اس سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔
شادی سے انکار کرنا بے ادبی سمجھتا تھا!
مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، مورو میاں نے بتایا کہ شادی کی پیشکش کرنے والی کئی خواتین عمر میں اس سے بڑی تھیں۔ تاہم، وہ ان کی پیشکش مسترد کرنا مناسب نہیں سمجھتا تھا۔ اس کے مطابق، کسی خاتون کی شادی کی خواہش کو ٹھکرانا اسے بے عزتی محسوس ہوتا تھا۔ اس طرح ایک کے بعد ایک شادی کی پیشکش قبول کرتے کرتے اس کی بیویوں کی تعداد 21 تک پہنچ گئی۔
ایک ہی جھونپڑی میں رہائش، بھیک مانگ کر گزر بسر
رپورٹوں کے مطابق، 21 بیویوں کے باوجود مورو میاں کی زندگی انتہائی سادہ ہے۔ وہ ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا ہے اور اس کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ بھیک مانگنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ روزانہ اس کی بیویوں میں سے ایک اس کے ساتھ بھیک مانگنے جاتی ہے اور باقی خواتین اپنی باری کا انتظار کرتی ہیں۔
مورو میاں کے لیے اتنی بڑی تعداد میں بیویوں کے نام یاد رکھنا بھی ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، جب صحافیوں نے اس سے تمام بیویوں کے نام پوچھے تو وہ سب کے نام نہیں بتا سکا۔ اسے شیلا، نرگس، سلینہ، عالیہ، تارا، رابعہ اور پارول سمیت چند نام یاد تھے۔
سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے
مورو میاں کے انٹرویو کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین مختلف انداز میں ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ اس کی 21 شادیوں کے دعوے پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ بعض یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ بھیک مانگ کر اتنے بڑے خاندان کی کفالت کیسے کی جاتی ہوگی۔
دوسری جانب، بعض افراد اس معاملے کو مختلف زاویے سے دیکھ رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ شاید اس شخص نے ایسی خواتین کو زندگی میں ساتھ دیا، جو شادی نہیں کر پائی تھیں اور تنہائی کا سامنا کر رہی تھیں۔ تاہم، مورو میاں کی شادیوں اور گھریلو زندگی سے متعلق یہ تفصیلات مقامی میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات سے نہیں ہوتی۔