بین الاقوامیسوشیل میڈیا

موت کی پیشن گوئی کرنے والی عجیب و غریب بلی، 100 سے زائد مریضوں کی موت کا پہلے ہی لگا لیتی تھی اندازہ!

جانوروں میں قدرتی تبدیلیوں اور خطرات کو محسوس کرنے کی صلاحیت کے بارے میں اکثر باتیں سامنے آتی رہتی ہیں، لیکن کیا کوئی بلی انسانوں کی موت کا پہلے ہی اندازہ لگا سکتی ہے؟ امریکہ میں آسکر نامی ایک بلی کی کہانی نے برسوں تک لوگوں کو حیرت میں مبتلا رکھا۔

امریکہ: جانوروں میں قدرتی تبدیلیوں اور خطرات کو محسوس کرنے کی صلاحیت کے بارے میں اکثر باتیں سامنے آتی رہتی ہیں، لیکن کیا کوئی بلی انسانوں کی موت کا پہلے ہی اندازہ لگا سکتی ہے؟ امریکہ میں آسکر نامی ایک بلی کی کہانی نے برسوں تک لوگوں کو حیرت میں مبتلا رکھا۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس بلی نے 100 سے زائد مریضوں کی موت سے قبل ہی ان کے پاس پہنچ کر سب کو حیران کردیا تھا۔

یہ واقعہ امریکہ کی ریاست رہوڈ آئی لینڈ کے ایک نرسنگ ہوم سے تعلق رکھتا ہے، جہاں آسکر نامی بلی رہتی تھی۔ اس کی غیر معمولی عادتوں کی وجہ سے نہ صرف نرسنگ ہوم کا عملہ بلکہ طبی دنیا سے وابستہ افراد بھی حیران رہ گئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق، سال 2005 میں رہوڈ آئی لینڈ کے اسٹیئر ہاؤس نرسنگ اینڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں آسکر کو ایک چھوٹی بلی کے بچے کی حیثیت سے اپنایا گیا تھا۔ اس مرکز میں زیادہ تر ایسے معمر افراد زیر علاج تھے جو ڈیمنشیا اور الزائمر جیسی بیماریوں میں مبتلا تھے۔

آسکر عام طور پر خاموش رہتی تھی اور مریضوں کے ساتھ زیادہ گھلنے ملنے میں دلچسپی نہیں لیتی تھی۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ نرسنگ ہوم کے عملے نے اس کے رویے میں ایک عجیب بات محسوس کی۔

عملے کے مطابق، جب کسی مریض کی صحت انتہائی خراب ہوجاتی تو آسکر اچانک اس کے کمرے میں پہنچ جاتی اور اس کے بستر پر چڑھ کر اس کے قریب لیٹ جاتی تھی۔ حیرت انگیز طور پر، عملے نے کئی مرتبہ دیکھا کہ جس مریض کے پاس آسکر اس طرح بیٹھتی یا لیٹتی، اس کی موت کچھ ہی وقت بعد ہوجاتی تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ بعض مریضوں کے معاملے میں آسکر کی آمد اور موت کے درمیان صرف دو سے چار گھنٹے کا وقفہ ہوتا تھا۔ اس طرح کے واقعات بار بار سامنے آنے کے بعد نرسنگ ہوم کے عملے نے آسکر کے رویے پر خصوصی توجہ دینا شروع کردی۔

آسکر کی یہ کہانی بعد میں طبی حلقوں اور ذرائع ابلاغ میں بھی موضوعِ بحث بنی۔ تاہم، اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے کہ بلیاں مستقبل میں ہونے والی موت کی پیش گوئی کرسکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ممکن ہے کہ آسکر شدید بیمار مریضوں کی جسمانی کیفیت، بو یا دیگر باریک تبدیلیوں کو محسوس کرلیتی ہو۔

یوں آسکر کی کہانی آج بھی انسانوں اور جانوروں کے تعلقات سے جڑے ان واقعات میں شمار کی جاتی ہے، جو لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوالات چھوڑ جاتے ہیں۔