سوشیل میڈیاقومی

کلاس روم میں استاد کی حرکت کیمرے میں قید، ویڈیو وائرل ہوتے ہی کارروائی

یہ واقعہ اٹاوہ ضلع کے سیفئی بلاک میں واقع بیرولی پرائمری اسکول میں پیش آیا۔ یہاں اسسٹنٹ ٹیچر کے طور پر خدمات انجام دینے والے دنیش کمار ماتھر کلاس روم میں کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے، جبکہ طلبہ فرش پر بیٹھے تھے۔ اسی دوران ایک طالب علم استاد کے سامنے موجود تھا۔

اترپردیش کے ضلع اٹاوہ میں ایک سرکاری پرائمری اسکول کے استاد کو طالب علم کے ساتھ نامناسب انداز میں پیش آنے پر معطل کردیا گیا۔ استاد کی جانب سے ایک کم عمر طالب علم کے گنجے سر پر طبلہ بجانے کی اداکاری کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس کے بعد محکمہ تعلیم کو شکایات موصول ہوئیں اور حکام نے کارروائی کی۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ اٹاوہ ضلع کے سیفئی بلاک میں واقع بیرولی پرائمری اسکول میں پیش آیا۔ یہاں اسسٹنٹ ٹیچر کے طور پر خدمات انجام دینے والے دنیش کمار ماتھر کلاس روم میں کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے، جبکہ طلبہ فرش پر بیٹھے تھے۔ اسی دوران ایک طالب علم استاد کے سامنے موجود تھا۔ استاد نے طالب علم کے گنجے سر پر ہاتھوں سے طبلہ بجانے جیسی حرکت کی اور اس دوران زور زور سے ہنستے ہوئے نظر آئے۔

مذکورہ واقعے کی ویڈیو کس نے ریکارڈ کی، اس بارے میں واضح معلومات سامنے نہیں آئیں، تاہم اطلاعات کے مطابق استاد نے ہی یہ ویڈیو اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر اپ لوڈ کی تھی۔ بعد ازاں ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس پر متعدد افراد نے اعتراض کیا اور اسے طالب علم کے وقار اور جذبات سے جوڑتے ہوئے تنقید کی۔

شکایات کے بعد کارروائی

واقعے کا نوٹ لیتے ہوئے ضلع کے بیسک شکشا ادھیکاری (BSA) ڈاکٹر راجیش کمار نے فوری کارروائی کی اور اسسٹنٹ ٹیچر دنیش کمار ماتھر کو معطل کردیا۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر اس واقعہ کے مختلف پہلوؤں پر بحث جاری ہے۔ بعض افراد نے اسے محض مذاق قرار دیا، جبکہ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی حرکت سے کم عمر بچے کو دوسروں کے سامنے شرمندگی محسوس ہوسکتی ہے۔

اس واقعے نے ایک بار پھر اسکولوں میں طلبہ کے ساتھ اساتذہ کے رویے اور بچوں کی عزتِ نفس کے تحفظ سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے۔ اساتذہ کی ذمہ داری صرف تعلیم دینا ہی نہیں، بلکہ طلبہ کے وقار اور جذبات کا خیال رکھنا بھی ہے۔