آندھرا پردیش ہائی کورٹ کا گڈے سائی کرشنا کی حراستی موت کی سی بی آئی تحقیقات کا حکم، والدہ کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دینے کی ہدایت
آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے گڈے سائی کرشنا کی مبینہ حراستی موت کے معاملے میں مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ سائی کرشنا کی والدہ کو چار ہفتوں کے اندر 25 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرے۔
امراوتی: آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے گڈے سائی کرشنا کی مبینہ حراستی موت کے معاملے میں مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ سائی کرشنا کی والدہ کو چار ہفتوں کے اندر 25 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرے۔
اطلاعات کے مطابق، سائی کرشنا کو وجئے واڑہ سٹی پولیس نے حراست میں لیا تھا، جس کے بعد 12 اور 13 مئی 2026 کے دوران مبینہ پولیس تشدد کے نتیجے میں ان کی موت ہوگئی۔ اس واقعے نے پولیس حراست میں پیش آنے والے حالات اور اب تک کی گئی تحقیقات پر کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
ہائی کورٹ نے اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کے لیے سی بی آئی کو ذمہ داری سونپی ہے۔ اس سے قبل خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تحقیقات میں مبینہ خامیوں پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ خاص طور پر اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی کہ آیا تحقیقات کے دوران سینئر پولیس افسران کے کردار کا مناسب طور پر جائزہ لیا گیا تھا یا نہیں۔
سی بی آئی تحقیقات میں سائی کرشنا کو حراست میں لیے جانے کے حالات اور کرشنا لنکا پولیس اسٹیشن میں پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پولیس اسٹیشن کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے غائب ہونے، نعش سے متعلق معاملات اور آخری رسومات کے حالات کی بھی جانچ کی جائے گی۔
عدالت نے ریاستی حکومت کو سائی کرشنا کی والدہ کو چار ہفتوں کے اندر 25 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے خاندان کو مالی راحت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔
اب سی بی آئی کی تحقیقات کے ذریعے سائی کرشنا کی موت کے حالات، مبینہ بے ضابطگیوں اور واقعے سے متعلق دیگر پہلوؤں کی تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔ معاملے میں مزید پیش رفت کا انتظار ہے۔