مذہب

جانور کی نذر

اگر کسی جائز چیز کی نذر مان لی جائے تو اس کا پورا کرنا واجب ہے، اور خود حدیث شریف میں اس کی تاکید آئی ہے (درمختار: ۱؍۲۹۴) اس لئے آپ پر ایک بکرے کی قربانی واجب ہے

سوال:-میں چھ ماہ قبل سخت بیمار ہوا تھا، زندگی کی امید نہ تھی، میں نے اپنی جان کے بدلہ ایک عدد بکرا زکوۃ دینے کی خدا سے منت مانگی تھی، میں صحت کی جانب تیزی سے رواں دواں ہوں، زکوۃ کی تقسیم کا طریقہ کیا ہے؟

جتنی رقم میں بکرا خریدا جا سکتا ہے، اتنی رقم میں گائے، بیل خریدے جاسکتے ہیں، کیا یہ تبدیلی درست ہے، بکرے کی یا بیل و گائے کی عمر کیا ہونی چاہئے؟

ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ ایسی زکوۃ کا بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ اپنے کسی قریبی عزیزوں میں قیمت تقسیم کر دیں، یا بیت المال میں جمع کروائیں، یا فقراء کو کھانا کھلادیں، یا دینی مدارس کو رقم حوالہ کر دیں یا یتیم لڑکے، لڑکیوں کے کام میں لائیں، یہ بھی تحریر کریں کہ کیا غیر مسلم کو دی جا سکتی ہے؟( عبدالرحمٰن، ملك پیٹ)

جواب:- اگر کسی جائز چیز کی نذر مان لی جائے تو اس کا پورا کرنا واجب ہے، اور خود حدیث شریف میں اس کی تاکید آئی ہے (درمختار: ۱؍۲۹۴) اس لئے آپ پر ایک بکرے کی قربانی واجب ہے، جب آپ نے بکرے کی نذر مانی ہے تو آپ پر بکرا دینا ہی واجب ہے نہ کہ گائے یا بیل، جن لوگوں کو زکوۃ دی جاسکتی ہے،

ان کو اس جانور کا گوشت بھی دیا جا سکتا ہے، اگر کسی متعین بکرے کے بارے میں آپ نے نذر نہیں مانی تھی؛ بلکہ مطلق بکرے کی نذر مانی تھی، تو ایک سال کا بکرا ہونا چاہئے، جیسا کہ قربانی کا حکم ہے،

فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے :و لا یجوز فیھما إلا ما یجوز فی الأضاحی (بدائع الصنائع: ۴؍۳۳۲) جن لوگوں کو زکوۃ دی جا سکتی ہے ان کو اس بکرے کا گوشت بھی دیا جا سکتا ہے؛

البتہ زکوۃ کے علاوہ دوسرے صدقات واجبہ غیر مسلموں کو دیئے جا سکتے ہیں، اگر بکرا ذبح کرنے کی منت نہیں مانی ہے؛ بلکہ بکرا صدقہ کرنے کی نذر مانی ہے تو کسی مستحق زکوۃ کو پورا جانور ھی صدقہ کیا جا سکتا ہے ۔