بھٹی بمقابلہ ریونت ریڈی؟ بجلی کے مسئلے پر تنازعہ، عہدیداروں میں بے چینی کی اطلاعات
تلنگانہ میں بجلی کی سربراہی اور محکمہ برقی کے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کے معاملے پر چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا کے درمیان اختلافات کی قیاس آرائیاں زور پکڑنے لگی ہیں۔ بجلی کے عہدیداروں کے درمیان بھی اس معاملے پر بحث جاری ہونے کی اطلاعات ہیں۔
حیدرآباد: تلنگانہ میں بجلی کی سربراہی اور محکمہ برقی کے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کے معاملے پر چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا کے درمیان اختلافات کی قیاس آرائیاں زور پکڑنے لگی ہیں۔ بجلی کے عہدیداروں کے درمیان بھی اس معاملے پر بحث جاری ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، بھٹی وکرامارکا نے بجلی کی بلاوقفہ سربراہی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کرنے والے محکمہ برقی کے عہدیداروں کی ستائش کی تھی۔ تاہم، اس کے اگلے ہی دن چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بجلی کی کٹوتی کے معاملے پر عہدیداروں کے خلاف سخت ریمارکس کیے، جس کے بعد محکمہ میں بے چینی پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ یادادری تھرمل پاور پلانٹ کے چیف انجینئر (سی ای) کے خلاف معطلی کی کارروائی پر غور اور عہدیداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی کی تشکیل نے اس تنازعہ کو مزید ہوا دی ہے۔ بعض عہدیداروں نے اس کارروائی پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، چیف منسٹر کے ریمارکس اور کمیٹی کی تشکیل کے معاملے پر محکمہ برقی کے عہدیداروں نے آپس میں تبادلہ خیال کیا۔ بعض اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کچھ عہدیداروں نے کمیٹی کے ساتھ تعاون نہ کرنے کے امکان پر بات کی ہے، تاہم اس سلسلے میں کسی باضابطہ فیصلے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
دوسری جانب، بھٹی وکرامارکا کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے محکمہ کے امور میں مبینہ مداخلت سے ناخوش ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ان کا ماننا ہے کہ بجلی کی کٹوتی کے معاملے میں وجوہات کا مکمل جائزہ لیے بغیر عہدیداروں کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جانا چاہیے۔
یادادری تھرمل پاور پلانٹ میں جینکو کے منیجنگ ڈائریکٹر کے دورے کے پس منظر میں بھی عہدیداروں کے درمیان اس معاملے پر گفتگو ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس دوران چیف منسٹر کے ریمارکس اور مجوزہ کمیٹی کے کردار پر تبادلہ خیال کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔
ان واقعات کے بعد تلنگانہ حکومت میں چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر کے درمیان تال میل اور محکمہ توانائی کے انتظامی امور پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ تاہم، دونوں قائدین کے درمیان کسی باضابطہ اختلاف یا عہدیداروں کی جانب سے کمیٹی کے بائیکاٹ کے فیصلے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس معاملے کو کس طرح حل کرتی ہے اور آیا محکمہ برقی کے عہدیداروں کے خلاف مزید کوئی کارروائی کی جاتی ہے یا نہیں۔