تلنگانہ

ایس آئی کی مبینہ ہراسانی سے دلبرداشتہ نوجوان کی موت، گدوال کے بوریڈی پلی گاؤں میں واقعہ

بوریڈی پلی گاؤں گدوال کے رکن اسمبلی بنڈلا کرشنا موہن ریڈی کا آبائی گاؤں بتایا جاتا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، ویرش نے گرام پنچایت انتخابات میں حصہ لیا تھا، جس کے بعد گاؤں میں بلا مقابلہ انتخاب نہ ہونے کو لے کر اسے مبینہ طور پر نشانہ بنایا جانے لگا۔

گدوال: تلنگانہ کے ضلع جوگولامبا گدوال کے دھارور منڈل میں واقع بوریڈی پلی گاؤں میں ایک نوجوان ویرش کی موت ہوگئی۔ الزام ہے کہ سب انسپکٹر (ایس آئی) اور گاؤں کے بعض بزرگوں کی مبینہ ہراسانی سے دلبرداشتہ ہوکر نوجوان نے 9 اکتوبر کو کیڑے مار دوا پی لی تھی۔ وہ کرنول کے سرکاری اسپتال میں زیر علاج تھا، جہاں آج صبح اس نے دم توڑ دیا۔

بوریڈی پلی گاؤں گدوال کے رکن اسمبلی بنڈلا کرشنا موہن ریڈی کا آبائی گاؤں بتایا جاتا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، ویرش نے گرام پنچایت انتخابات میں حصہ لیا تھا، جس کے بعد گاؤں میں بلا مقابلہ انتخاب نہ ہونے کو لے کر اسے مبینہ طور پر نشانہ بنایا جانے لگا۔

الزام ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے کے بعد سے ایس آئی اور گاؤں کے بعض بزرگ ویرش کو ہراساں کر رہے تھے۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ایس آئی نے مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات کے سلسلے میں اسے تین مرتبہ پولیس اسٹیشن طلب کیا اور وہاں اس کے ساتھ بے رحمی سے مارپیٹ کی۔

بتایا جاتا ہے کہ مبینہ ہراسانی اور تشدد سے ویرش شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگیا تھا۔ اسی کیفیت میں اس نے 9 اکتوبر کو اپنے گاؤں میں کیڑے مار دوا پی لی۔

نوجوان کی حالت بگڑنے پر اہل خانہ نے اسے فوری طور پر کرنول کے سرکاری اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کا علاج کیا۔ تاہم، کئی دن تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد وہ آج صبح جانبر نہ ہوسکا۔

اس واقعے کے بعد پولیس کی مبینہ ہراسانی اور مقامی انتخابی معاملات میں مخالف امیدواروں کے ساتھ برتاؤ پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ واقعے کی مکمل تحقیقات کرتے ہوئے ویرش کے اہل خانہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی جانچ کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

فی الحال ایس آئی اور گاؤں کے بزرگوں کے خلاف لگائے گئے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ واقعے کی اصل وجوہات اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ پولیس کی جانب سے کسی باضابطہ کارروائی یا بیان کی تفصیلات تاحال دستیاب نہیں ہیں۔