ایس بی آئی کے 3.75 لاکھ ڈیٹا ریکارڈس ہیک ہونے کا دعویٰ
اگر یہ معلومات درست ثابت ہوتی ہیں تو ان کا غلط استعمال مالی دھوکہ دہی، شناخت کی چوری اور فشنگ حملوں کے لیے کیا جاسکتا ہے۔
نئی دہلی: سیرئیسِم (Siriusim) نامی ہیکر گروپ نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) سے مبینہ طور پر وابستہ 3.75 لاکھ ڈیٹا ریکارڈس اور 2,722 دستاویزات تک رسائی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سائبر سکیورٹی اکاؤنٹ سائبر پلس 56 کے مطابق، مبینہ ڈیٹا میں صارفین کی ذاتی معلومات، رہائشی پتے، قرض کی درخواستیں اور بینک اکاؤنٹ کھولنے سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔
اگر یہ معلومات درست ثابت ہوتی ہیں تو ان کا غلط استعمال مالی دھوکہ دہی، شناخت کی چوری اور فشنگ حملوں کے لیے کیا جاسکتا ہے۔ تاہم، ڈیٹا کی صداقت اور اس کے ماخذ کی تاحال آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ایس بی آئی کے نظام میں ہیکنگ کی بھی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
ابھی تک کسی ذریعے سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی کہ ایس بی آئی کے کمپیوٹر نظام کو ہیک کیا گیا ہے یا مبینہ دستاویزات براہِ راست بینک کے نظام سے حاصل کی گئی ہیں۔
اخبار ’دی اکنامک ٹائمز‘ نے 20 اکتوبر کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اشاعت کے وقت تک ایس بی آئی نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے بھیجی گئی ای میل کا جواب نہیں دیا تھا۔