تلنگانہ کی2 اہم اسکیموں پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ!
سپریم کورٹ نے تلنگانہ حکومت کی شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیموں کو جاری رکھنے سے متعلق تلنگانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواست مسترد کردی ہے۔
حیدرآباد: سپریم کورٹ نے تلنگانہ حکومت کی شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیموں کو جاری رکھنے سے متعلق تلنگانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواست مسترد کردی ہے۔
یہ فیصلہ جمعرات 15 اکتوبر کو چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالا باگچی پر مشتمل بنچ نے سنایا۔ عدالت نے کہا کہ یکم ستمبر 2026 کو ہائی کورٹ کی ڈیویژن بنچ کی جانب سے دیے گئے حکم میں مداخلت کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
یہ درخواست حیدرآباد کے وکیل وجئے گوپال نے سپریم کورٹ میں دائر کی تھی۔ انہوں نے شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیموں کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینے کی اپیل کی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے ان کی خصوصی اجازت کی درخواست مسترد کردی۔
دونوں اسکیمیں تلنگانہ حکومت کی فلاحی اسکیمیں ہیں، جن کے تحت شادی کے لیے اہل لڑکیوں کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اگست میں تلنگانہ ہائی کورٹ کے ایک جج نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے ان اسکیموں پر روک لگادی تھی۔ اس فیصلے کو ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کی ڈیویژن بنچ میں چیلنج کیا، جس نے یکم ستمبر کو سنگل جج کے حکم پر روک لگاتے ہوئے اسکیموں کو جاری رکھنے کی اجازت دے دی تھی۔
اس کے بعد وکیل وجئے گوپال نے ہائی کورٹ کی ڈیویژن بنچ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، تاہم سپریم کورٹ نے ان کی درخواست خارج کردی۔
دوسری جانب، سپریم کورٹ نے تلنگانہ ہائی کورٹ میں زیر التوا اس معاملے سے متعلق مفاد عامہ کی عرضی کو ڈیویژن بنچ کے سامنے سماعت کے لیے پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ بہتر ہوگا کہ اس معاملے کی سماعت ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یا قائم مقام چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم بنچ کرے۔