ویڈیو: آندھرا پردیش میں بلدی انتخابات کے پہلے دن تشدد، کئی مقامات پر جھڑپیں
آندھرا پردیش میں بلدیاتی انتخابات کے لیے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے پہلے ہی دن کئی مقامات پر تشدد کے واقعات پیش آئے۔ انامیا ضلع کے پنگنور میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ پی وی متھن ریڈی کے قافلے پر حملہ کیا گیا، جس کے بعد تلگو دیشم پارٹی اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔
امراوتی: آندھرا پردیش میں بلدیاتی انتخابات کے لیے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے پہلے ہی دن کئی مقامات پر تشدد کے واقعات پیش آئے۔ انامیا ضلع کے پنگنور میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ پی وی متھن ریڈی کے قافلے پر حملہ کیا گیا، جس کے بعد تلگو دیشم پارٹی اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ ان واقعات میں کئی افراد زخمی ہوئے، جبکہ متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
اطلاعات کے مطابق، پنگنور میونسپلٹی میں یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب راجَم پیٹ کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے قائد پی وی متھن ریڈی، اپنی پارٹی کے امیدواروں کے ساتھ پرچہ نامزدگی داخل کرنے پہنچے۔
وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے الزام لگایا کہ تلگو دیشم پارٹی کے کارکنوں نے ان کے قافلے کو روک کر گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور لاٹھیوں و لوہے کی سلاخوں سے حملہ کیا۔ پارٹی نے پولیس پر بھی اپنے قائدین اور امیدواروں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔
دوسری جانب، تلگو دیشم پارٹی نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پولیس کی جانب سے روکے جانے کے باوجود متھن ریڈی بڑی تعداد میں گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ وہاں پہنچے۔
پارٹی کے مطابق، ان کی آمد پر احتجاج کرنے والے تلگو دیشم کارکنوں پر وائی ایس آر کانگریس کے حامیوں نے پتھراؤ کیا۔ دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو تشدد کا ذمہ دار قرار دیا ہے، تاہم ان کے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
اس جھڑپ میں مدھو نامی تلگو دیشم پارٹی کے ایک کارکن کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ پارٹی قائدین مدھوسودھن رائل، سہیل باشا، ملنگی رمنا اور آسوری بالاجی کے علاوہ مرکزی ریزرو پولیس فورس کا ایک اہلکار بھی زخمی بتایا گیا ہے۔
واقعے کے بعد سابق چیف منسٹر اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے صدر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے متھن ریڈی سے فون پر بات کی اور حملے کی مذمت کی۔ جگن موہن ریڈی نے چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو کی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور پولیس تشدد روکنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ان کی پارٹی کے لوک سبھا قائد ہی محفوظ نہیں ہیں تو عام کارکنوں اور امیدواروں کی حفاظت کیسے یقینی بنائی جاسکتی ہے۔ جگن موہن ریڈی نے معاملے کو عدالت سے رجوع کرنے اور انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کا بھی مطالبہ کیا۔
وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے حملے کے ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے، انہیں گرفتار کرنے، غفلت برتنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کرنے اور پرچہ نامزدگی داخل کرنے والے امیدواروں کو مناسب تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر انامیا ضلع کے رائے چوٹی میں بھی دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایس این کالونی کے علاقے میں گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ بعض گاڑیوں کو آگ لگائے جانے کی بھی اطلاع ہے۔
تروپتی میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے قائدین بھومنا کروناکر ریڈی اور بھومنا ابھینے ریڈی سمیت دیگر کارکنوں پر تلگو دیشم پارٹی کے کارکنوں سے الجھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اسی طرح سری ستیہ سائی ضلع کے دھرم ورم میونسپل دفتر میں بھی کشیدگی پیدا ہوگئی، جہاں سابق وائی ایس آر کانگریس رکن اسمبلی کیتھی ریڈی وینکٹا رامی ریڈی کے بھائی کرشنا ریڈی کی آمد پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں نے اعتراض کیا، جس کے بعد دونوں جماعتوں کے حامیوں کے درمیان تصادم ہوگیا۔
ان واقعات کے پیش نظر آندھرا پردیش ریاستی الیکشن کمیشن نے وجئے واڑہ میں ایک کنٹرول روم قائم کیا ہے، جہاں بلدیاتی انتخابات کے لیے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے دوران پیش آنے والی شکایات وصول کی جائیں گی۔
پولیس انسپکٹر جنرل راجکماری نے بھی تشدد کے واقعات کا جائزہ لیا اور متعلقہ اضلاع کے سپرنٹنڈنٹس آف پولیس سے تفصیلات طلب کی ہیں۔ واضح رہے کہ ریاستی الیکشن کمیشن نے 14 اکتوبر کو بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا تھا۔
نامزدگیوں کے پہلے ہی دن مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات کے بعد انتخابی عمل کی سکیورٹی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ امیدوار بلا رکاوٹ اپنے پرچے نامزدگی داخل کرسکیں اور مزید جھڑپوں کو روکا جاسکے۔