بین الاقوامی

سعودی عرب میں سری لنکن مزدور کے معاملہ میں بڑا فیصلہ، طویل قانونی جنگ کے بعد اہم پیش رفت

سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے سری لنکا کے تارکِ وطن مزدور انوجن شیوَراسا کو سنائی گئی سزائے موت مبینہ طور پر منسوخ کردی ہے۔سری لنکا کے اخبار 'ڈیلی مرر' کے مطابق، شیوَراسا کو سعودی عرب کی ایک اپیل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی۔

کولمبو: سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے سری لنکا کے تارکِ وطن مزدور انوجن شیوَراسا کو سنائی گئی سزائے موت مبینہ طور پر منسوخ کردی ہے۔سری لنکا کے اخبار ‘ڈیلی مرر’ کے مطابق، شیوَراسا کو سعودی عرب کی ایک اپیل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی۔

طویل قانونی کارروائی کے بعد انہوں نے 11 اکتوبر 2026 کو سعودی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، جس کے بعد عدالت نے اپیل کورٹ کے فیصلے کو پلٹ دیا۔سری لنکا کی حکومت نے شیوَراسا کی رہائی یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کیں اور اپیل کی پیروی کے لیے سعودی عرب میں ایک خصوصی قانونی وفد بھیجا تھا۔

سری لنکا کے نائب وزیر خارجہ نے بھی فیس بک پر ایک پوسٹ کے ذریعے فیصلے کی منسوخی کی تصدیق کی ہے۔نائب وزیر خارجہ ارون ہیماچندرا نے سعودی حکومت کے تعاون اور سفیر، حکام نیز سری لنکا اور سعودی عرب کی قانونی ٹیموں کی مخلصانہ کوششوں پر اظہارِ تشکر کیا۔

ذرائع کے مطابق، سعودی عرب میں سری لنکا کے سفیر امیر اجواد نے بھی شیوَراسا کی رہائی یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششوں کی قیادت میں اہم کردار ادا کیا۔اس فیصلے سے سری لنکا کے عوام نے راحت کی سانس لی ہے۔

اس سے قبل سزائے موت پانے والی سری لنکن تارکِ وطن مزدور ریحانہ نفیک کو معافی دلانے کی کوششوں کے باوجود پھانسی دے دی گئی تھی۔