تلنگانہ

تلنگانہ میں ای ڈی نے بھارتی بلڈرز کی جائیداد ضبط کرلی

ای ڈی کے مطابق تحقیقات میں پتہ چلا کہ بھارتی بلڈرز کے منیجنگ پارٹنر ملپوری شیورام کرشن نے دپاتی ناگا راجو کے ساتھ مل کر "بھارتی لیک ویو ٹاورز" منصوبے کے لیے ایک پری لانچ اسکیم شروع کی تھی، جس کے تحت 450 سے زیادہ مکان خریداروں کو بڑی رقم دینے کے لیے راغب کیا گیا۔

تلنگانہ:  انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے مکان خریداروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ دھوکہ دہی کے معاملے میں بھارتی بلڈرز، اس کے شراکت داروں، ان کے اہل خانہ اور دیگر افراد کی 17.97 کروڑ روپے مالیت کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کر لی ہیں۔

ای ڈی کے مطابق اس نے تلنگانہ میں سائبر آباد کی اکنامک کرائم برانچ کی جانب سے درج ایف آئی آر کی بنیاد پر منی لانڈرنگ روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت تحقیقات شروع کیں۔ یہ ایف آئی آر ملپوری شیورام کرشن، دپاتی ناگا راجو، ڈوڈاکولا نرسمہا راؤ عرف پوناری اور دیگر کے خلاف تعریزات ہند کی 1860 کی دفعات 406 اور 420 اور تلنگانہ فنانشل انسٹی ٹیوشنز میں ڈپازٹرز کے تحفظ ایکٹ کی دفعہ 5 کے تحت درج کی گئی تھی۔ ان پر الزام ہے کہ بھارتی بلڈرز کی جانب سے شروع کیے گئے منصوبوں میں مکان خریداروں کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی۔

ای ڈی کے مطابق تحقیقات میں پتہ چلا کہ بھارتی بلڈرز کے منیجنگ پارٹنر ملپوری شیورام کرشن نے دپاتی ناگا راجو کے ساتھ مل کر "بھارتی لیک ویو ٹاورز” منصوبے کے لیے ایک پری لانچ اسکیم شروع کی تھی، جس کے تحت 450 سے زیادہ مکان خریداروں کو بڑی رقم دینے کے لیے راغب کیا گیا۔

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت

ملزمان نے مبینہ طور پر سرمایہ کاروں کے ساتھ جعلی معاہدے کیے، جن میں منصوبہ مکمل کرنے کا وعدہ کیا گیا، جبکہ یہ حقیقت چھپائی گئی کہ انہیں ضروری حکومتی منظوری نہیں ملی تھی اور زمین پہلے ہی قرض کے بدلے رہن رکھی گئی تھی۔ کمپنی اور پروموٹرز کی ذمہ داریوں کو بھی مکان خریداروں سے چھپایا گیا۔

بتایا جا رہا ہے کہ ملزمان نے مکان خریداروں سے حاصل ایڈوانس رقم کے ذریعے تقریباً 75 کروڑ روپے کی غیر قانونی کمائی کی، جس میں سے 17 کروڑ روپے نقد جمع کیے گئے تھے۔ منصوبہ مکمل کرنے کے بجائے، ان رقوم کو مبینہ طور پر قرضوں کی ادائیگی، ایڈوانس پر سود دینے، غیر منقولہ جائیدادوں میں سرمایہ کاری کرنے، بینک فنڈ کو نقد میں تبدیل کرنے کے لیے کمیشن دینے اور دیگر غیر ضروری کاموں میں استعمال کیا گیا۔ منصوبے کے لیے خریدی گئی زمین کے کچھ حصے ایسے افراد کو فروخت کر دیے گئے جن کا منصوبے سے کوئی تعلق نہیں تھا، جبکہ مکان خریداروں سے اب بھی ایڈوانس رقم طلب کی جا رہی تھی۔ اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری