سوشیل میڈیا

ویڈیو: دسہرہ پر اے کے 47 سے فائرنگ، آئی پی ایس افسر انکیتا شرما پر اٹھے سوالات

چھتیس گڑھ کے راجناندگاؤں ضلع کی پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) اور آئی پی ایس افسر انکیتا شرما کا دسہرہ کے موقع پر اے کے 47 رائفل سے ہوائی فائرنگ کرنے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔

چھتیس گڑھ کے راجناندگاؤں ضلع کی پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) اور آئی پی ایس افسر انکیتا شرما کا دسہرہ کے موقع پر اے کے 47 رائفل سے ہوائی فائرنگ کرنے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ ویڈیو میں انکیتا شرما اسلحہ پوجا کے دوران رائفل سے یکے بعد دیگرے کئی فائر کرتی نظر آرہی ہیں۔ اس واقعہ کے بعد اسلحہ کے استعمال کے حفاظتی اصولوں اور سرکاری ہتھیاروں سے فائرنگ کے قواعد پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

اسلحہ پوجا کے دوران فائرنگ کا ویڈیو وائرل

ہندوستان میں دسہرہ کے موقع پر اسلحہ پوجا کی روایت ہے۔ پولیس اور فوج کے اداروں میں بھی اس دن ہتھیاروں کی پوجا کی جاتی ہے۔ اسی سلسلہ میں چھتیس گڑھ کے راجناندگاؤں میں منعقدہ تقریب کے دوران انکیتا شرما سمیت کئی افراد موجود تھے۔

وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مختلف ہتھیار ایک میز پر رکھے ہوئے ہیں۔ اسی دوران انکیتا شرما ایک اے کے 47 رائفل اٹھاتی ہیں اور اسے لوڈ کرنے کے بعد ہوا میں فائرنگ شروع کردیتی ہیں۔ اس موقع پر ان کے قریب کئی افراد موجود تھے، جو فائرنگ کے دوران گھبرائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

سابق لیفٹیننٹ جنرل نے اٹھائے سوالات

ہندوستانی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل کے جے ایس ڈھلوں نے اس ویڈیو پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فائرنگ کے طریقہ پر اعتراض کیا ہے۔ ان کے مطابق، اسلحہ کو سنبھالنے اور استعمال کرنے کے بنیادی حفاظتی اصولوں کی پابندی ضروری ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ لوڈ شدہ ہتھیار کو غلط انداز میں پکڑنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق، فائرنگ کے دوران ہتھیار کی سمت اور قریب موجود افراد کی حفاظت پر بھی توجہ نہیں دی گئی۔

سابق فوجی افسر نے سرکاری ہتھیار کے استعمال، مناسب اجازت اور حفاظتی تربیت سے متعلق امور پر بھی سوال اٹھائے اور اس واقعہ پر کارروائی کی ضرورت ظاہر کی۔

ہوائی فائرنگ پر کیا کہتے ہیں قوانین؟

اسلحہ سے فائرنگ کے معاملہ میں ہندوستانی قوانین اور حفاظتی ضوابط کی پابندی ضروری ہے۔ کسی تقریب میں خوشی کے اظہار کے لئے فائرنگ کرنا، خصوصاً جب اس سے لوگوں کی جان یا سلامتی کو خطرہ لاحق ہو، قانونی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، آرمس ایکٹ کی دفعہ 25 کے تحت ہتھیار کے غیر قانونی استعمال پر سزا کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم، اس معاملہ میں مخصوص قانونی دفعہ کا اطلاق اس بات پر منحصر ہوگا کہ واقعہ کے حالات کیا تھے اور متعلقہ حکام کی جانب سے کیا حقائق سامنے آتے ہیں۔

آرمس ایکٹ کی دفعہ 45 میں بعض مخصوص حالات اور سرکاری فرائض کے دوران کئے جانے والے اقدامات سے متعلق استثنیٰ کی دفعات بھی موجود ہیں۔ اس لئے یہ طے کرنے کے لئے کہ آیا مذکورہ فائرنگ کسی سرکاری سرگرمی یا مجاز کارروائی کا حصہ تھی، متعلقہ قواعد اور واقعہ کے مکمل حالات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

کیا انکیتا شرما کے خلاف کارروائی ہوگی؟

ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا پولیس افسر کے اس اقدام پر کوئی محکمانہ یا قانونی کارروائی کی جائے گی۔ تاہم، دستیاب معلومات کے مطابق، اس معاملہ میں انکیتا شرما کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

فی الحال اس واقعہ کے قانونی پہلوؤں اور حفاظتی اصولوں کی مبینہ خلاف ورزی کے بارے میں اٹھائے گئے سوالات کا حتمی فیصلہ متعلقہ حکام کی جانچ اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہی کیا جاسکتا ہے۔