سوشیل میڈیاقومی

کانپور میں 500 روپے میں ایک گھنٹے کیلئے گربا پارٹنر! وائرل پوسٹر نے چھیڑ دی نئی بحث (ویڈیو)

نامعلوم سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے کی جانے والی ایسی پیشکشوں کے سلسلے میں آن لائن ادائیگی، ذاتی تصاویر یا حساس معلومات شیئر کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

کانپور۔ اترپردیش کے کانپور میں سوشل میڈیا پر ایک انوکھا پوسٹر وائرل ہورہا ہے، جس میں گربا نائٹ کے لیے کرایہ پر ڈانس پارٹنر فراہم کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ پوسٹر کے مطابق، ایک گھنٹے کے لیے پارٹنر کی بکنگ پر 500 روپے اور دو گھنٹے کے لیے 1000 روپے ادا کرنے ہوں گے۔ اس پوسٹر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصروں کے ساتھ ساتھ اس پیشکش کی حقیقت پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

نوراتری کے موقع پر ملک بھر میں گربا اور ڈانڈیا پروگرام منعقد کیے جارہے ہیں۔ اسی دوران انسٹاگرام پیج @kanpur_hamari_jaan کے ذریعے سامنے آنے والے اس پوسٹر نے لوگوں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ پوسٹر میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں روایتی گجراتی لباس میں گربا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس پر ’’کانپور گربا نائٹ‘‘ اور ’’ریٹ پر مل رہے پارٹنر‘‘ جیسے الفاظ درج ہیں۔

ایک گھنٹے کے 500، دو گھنٹے کے 1000 روپے

وائرل پوسٹر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گربا کھیلنے کے لیے ایک گھنٹے کا پارٹنر 500 روپے میں اور دو گھنٹے کا پارٹنر 1000 روپے میں دستیاب ہوگا۔ لوگوں کو راغب کرنے کے لیے ’’محفوظ اور قابل اعتماد‘‘، ’’ساتھ میں گربا کا لطف اٹھائیں‘‘ اور ’’نئے دوست بنائیں‘‘ جیسے جملے بھی درج کیے گئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے

پوسٹر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین مختلف انداز میں ردعمل ظاہر کررہے ہیں۔ بعض صارفین نے اس پیشکش پر حیرت کا اظہار کیا، جبکہ کچھ نے پارٹنر حاصل کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں سوالات کیے۔ ایک صارف نے پوچھا کہ پارٹنر کہاں اور کیسے ملے گا، جبکہ دوسرے نے کہا کہ پہلے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پارٹنر کہاں دستیاب ہوگا، اس کے بعد ہی بکنگ کی جائے گی۔ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ اب کیا کیا دیکھنا پڑ رہا ہے۔

پیشکش کی حقیقت پر سوالات، پولیس کی جانچ شروع

اس پوسٹر میں نہ تو کسی منتظم کا نام درج ہے اور نہ ہی پروگرام کے مقام، بکنگ کے طریقہ کار یا شرائط کے بارے میں واضح معلومات دی گئی ہیں۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ آیا یہ واقعی گربا کے لیے پارٹنر فراہم کرنے کی کوئی تجارتی پیشکش ہے یا اس کے پیچھے کسی قسم کی دھوکہ دہی کا امکان موجود ہے۔

نامعلوم سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے کی جانے والی ایسی پیشکشوں کے سلسلے میں آن لائن ادائیگی، ذاتی تصاویر یا حساس معلومات شیئر کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

اس معاملے پر اے ڈی سی پی سنیہا تیواری نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی اس پوسٹ کے مختلف پہلوؤں کی جانچ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی نقطۂ نظر سے بھی معاملے کا جائزہ لیا جارہا ہے اور تحقیقات کے بعد قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔