سوشیل میڈیاقومی
ٹرینڈنگ

جنت میں خواتین کو بھی 72 مرد ملیں گے؟ ہُدیٰ جریوالا کے بیان پر تنازعہ، علماء کی سخت مخالفت، قانونی کارروائی کی وارننگ

سوشل میڈیا اور ایک پوڈکاسٹ میں خواتین کو جنت میں 72 مرد ملنے سے متعلق بیان دینے والی ہُدیٰ جریوالا کا معاملہ تنازعہ کا شکار ہوگیا ہے۔ دیوبندی علماء کی جانب سے ان کے بیان پر اعتراض کے بعد اب دونوں کے درمیان سوشل میڈیا پر ہونے والی نجی گفتگو کے اسکرین شاٹس بھی سامنے آئے ہیں

سہارنپور۔ سوشل میڈیا اور ایک پوڈکاسٹ میں خواتین کو جنت میں 72 مرد ملنے سے متعلق بیان دینے والی ہُدیٰ جریوالا کا معاملہ تنازعہ کا شکار ہوگیا ہے۔ دیوبندی علماء کی جانب سے ان کے بیان پر اعتراض کے بعد اب دونوں کے درمیان سوشل میڈیا پر ہونے والی نجی گفتگو کے اسکرین شاٹس بھی سامنے آئے ہیں، جس کے بعد معاملے نے مزید شدت اختیار کرلی ہے۔ ہُدیٰ جریوالا نے پوسٹ حذف نہ کرنے پر پولیس میں شکایت اور قانونی کارروائی کی وارننگ دی ہے، جبکہ علماء کا کہنا ہے کہ مذہبی معاملات پر گفتگو مستند معلومات اور دلائل کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔

یہ تنازعہ 9 اکتوبر کو نشر ہونے والے ایک پوڈکاسٹ کے بعد شروع ہوا، جس میں ہُدیٰ جریوالا نے شرکت کی تھی۔ جنت میں حوروں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا تھا کہ اگر مردوں کو جنت میں 72 حوریں ملیں گی تو خواتین کو بھی 72 مرد ملیں گے۔ ان کے اس بیان کے بعد مذہبی عقائد سے متعلق بحث شروع ہوگئی۔

دیوبند کے علماء نے اس بیان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی مسائل پر رائے دینے سے پہلے قرآن، سنت اور مستند مذہبی کتابوں کی صحیح معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔

مولانا قاری اسحاق گورا کا سخت ردعمل

جمعیت دعوت المسلمین کے سرپرست اور دیوبندی عالم مولانا قاری اسحاق گورا نے ہُدیٰ جریوالا کے بیان پر سخت اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی معاملات کو ذاتی خواہشات یا قیاس آرائیوں کی بنیاد پر نہیں پرکھا جاسکتا، بلکہ اس کے لیے مستند دینی علم اور ٹھوس دلائل ضروری ہیں۔

مولانا نے کہا کہ سوال پوچھنا غلط نہیں ہے، لیکن نامکمل معلومات کے ساتھ رائے دینے سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

پوسٹ حذف کرنے کا مطالبہ، پولیس شکایت کی وارننگ

مولانا قاری اسحاق گورا کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جانے کے بعد ہُدیٰ جریوالا نے انہیں پیغام بھیج کر اعتراض کیا۔ اب اس نجی گفتگو کے اسکرین شاٹس بھی منظرعام پر آگئے ہیں۔

سامنے آنے والے اسکرین شاٹس کے مطابق، ہُدیٰ جریوالا نے مولانا سے پوسٹ فوری طور پر حذف کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک مسلم خاتون ہونے کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ انہوں نے پوسٹ حذف نہ کیے جانے کی صورت میں پولیس میں شکایت درج کرانے اور قانونی کارروائی کرنے کی وارننگ بھی دی۔

دوسری جانب مولانا قاری اسحاق گورا کا کہنا ہے کہ کسی بیان پر نظریاتی اور مستند دلائل کی بنیاد پر اعتراض کرنا ہر شہری کا حق ہے۔ ان کے مطابق، ان کا مقصد کسی کی توہین کرنا نہیں، بلکہ مذہبی معاملات میں درست معلومات پیش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو ان کے موقف پر اعتراض ہے تو وہ حقائق اور دلائل کے ساتھ اپنا موقف پیش کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ ہُدیٰ جریوالا سیاست، سوشل میڈیا اور صحافت سے وابستہ رہی ہیں۔ وہ یوٹیوبر، سیاسی تجزیہ کار، سابق نیوز اینکر اور عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کی سابق ترجمان بھی رہ چکی ہیں۔ ستمبر میں سہارنپور کلکٹریٹ کے احاطے میں واقع مسجد کے انہدام کے معاملے پر اپنے متنازعہ تبصروں کے سبب بھی وہ خبروں میں آئی تھیں۔ اس معاملے میں سہارنپور پولیس نے انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا تھا۔