حیدرآباد

تلنگانہ میں بلڈنگس رولس میں بڑی تبدیلی، حکومت نے نئے رہنما اصول جاری

حکومت نے غیر بلند عمارتوں کے لیے اطراف میں خالی جگہ یعنی سیٹ بیک کے اصولوں میں بھی نرمی دی ہے۔ جبکہ بلند عمارتوں میں 10 فیصد تک سیٹ بیک میں رعایت دی گئی ہے، جس سے بلڈرز کو مزید سہولت حاصل ہوگی اور تعمیراتی منصوبوں میں لچک پیدا ہوگی۔

حیدرآباد : حکومت تلنگانہ نے تلنگانہ بلڈنگ قواعد 2012 میں اہم ترامیم کرتے ہوئے نئے رہنما اصول جاری کر دیے ہیں۔ ان تبدیلیوں کا مقصد تعمیراتی شعبے میں آسانی پیدا کرنا اور ترقیاتی حقوق کے استعمال کو مزید منظم اور مؤثر بنانا ہے، تاکہ شہری ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
حکومت تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کیلئے پر عزم: سریدھر بابو
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت

نئے قواعد کے مطابق 21 میٹر سے زیادہ اونچائی والی عمارتوں کو بلند عمارت یعنی ہائی رائز کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔

اسی طرح 750 سے 2000 مربع میٹر کے پلاٹس پر 18 سے 21 میٹر اونچائی تک عمارتوں کی تعمیر کے لیے ترقیاتی حقوق کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے، جس سے تعمیراتی سرگرمیوں میں ایک نیا نظم و ضبط متعارف ہوگا۔

حکومت نے غیر بلند عمارتوں کے لیے اطراف میں خالی جگہ یعنی سیٹ بیک کے اصولوں میں بھی نرمی دی ہے۔ جبکہ بلند عمارتوں میں 10 فیصد تک سیٹ بیک میں رعایت دی گئی ہے، جس سے بلڈرز کو مزید سہولت حاصل ہوگی اور تعمیراتی منصوبوں میں لچک پیدا ہوگی۔

اس کے علاوہ 2000 مربع میٹر سے زائد رقبے والے پلاٹس پر اضافی منزلیں بنانے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

 سڑک کی چوڑائی کے مطابق 40 فٹ سڑک پر 3 اضافی منزلیں، 60 فٹ سڑک پر 4 اضافی منزلیں اور 80 فٹ سڑک پر 5 اضافی منزلیں تعمیر کی جا سکیں گی، جس سے بڑے منصوبوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

نئے رہنما اصول کے تحت 10 منزلوں سے زیادہ عمارتوں میں ترقیاتی حقوق کا استعمال لازمی ہوگا، جبکہ 20 منزلوں سے زائد عمارتوں کے لیے 5 فیصد اضافی ترقیاتی حقوق بھی لاگو کیے گئے ہیں۔ مزید برآں عمارت کی منظوری کے وقت 50 فیصد ترقیاتی حقوق جمع کرانا ضروری ہوگا، جبکہ باقی 50 فیصد آکیوپینسی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے سے پہلے جمع کروانا ہوگا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان ترامیم سے نہ صرف تعمیراتی شعبے میں تیزی آئے گی بلکہ حیدرآباد اور اطراف کے علاقوں میں شہری ترقی کو بھی نئی رفتار ملے گی۔