کسان کی پریشانی کا مذاق اڑانا تحصیلدار کو پڑا مہنگا، کلکٹر کا سخت قدم(ویڈیو)
تلنگانہ کے سدی پیٹ ضلع کے گجویل میں ایک کسان کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کرنے کے معاملے میں تحصیلدار پی ایچ سوامی کو اتوار، 11 اکتوبر کو معطل کردیا گیا۔ سوشل میڈیا پر ان کی ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ضلع کلکٹر کے حکم پر یہ کارروائی کی گئی۔
تلنگانہ کے سدی پیٹ ضلع کے گجویل میں ایک کسان کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کرنے کے معاملے میں تحصیلدار پی ایچ سوامی کو اتوار، 11 اکتوبر کو معطل کردیا گیا۔ سوشل میڈیا پر ان کی ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ضلع کلکٹر کے حکم پر یہ کارروائی کی گئی۔
ریونیو ڈویژنل آفیسر کی ابتدائی رپورٹ کی بنیاد پر معطلی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ تحصیلدار کو پیشگی اجازت کے بغیر اپنا ہیڈکوارٹر چھوڑنے سے بھی منع کردیا گیا ہے۔
وائرل ویڈیو میں تحصیلدار ایک کسان یسو سے یہ کہتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں کہ ’’ابھی تک تم نے کیڑے مار دوا کیوں نہیں پی؟‘‘ کسان اپنی پریشانی بیان کررہا تھا، جس پر افسر نے اس سے یہ بھی پوچھا کہ کیا وہ اب تک زندہ ہے؟
ویڈیو میں کسان کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا جاسکتا ہے کہ کیا افسر کو اس کی پریشانی مضحکہ خیز لگ رہی ہے؟ اس پر تحصیلدار نے جواب دیا کہ ’’ہاں، بالکل۔‘‘
اس واقعے پر بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راماراؤ نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں اس رویے کو شرمناک اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو کسان ملک کے عوام کو غذا فراہم کرتے ہیں، ان کے ساتھ ایسا سلوک کیسے کیا جاسکتا ہے؟ انہوں نے تلنگانہ کے چیف سکریٹری سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ تحصیلدار کے خلاف کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب، تحصیلدار پی ایچ سوامی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنے موقف کی وضاحت کی۔ ان کے مطابق، مکتھا مسان پلی گاؤں کے کسان یسو ریجنل رنگ روڈ منصوبے کے لیے حاصل کی جانے والی زرعی زمین کے معاوضے کا مطالبہ کررہے تھے۔
تحصیلدار کا کہنا تھا کہ زمین خاندانی تنازعے میں پھنسی ہوئی ہے، اس لیے اسے حاصل کرنے اور معاوضہ جاری کرنے کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ کسان کو بارہا سمجھا چکے تھے کہ خاندان کے درمیان تنازعہ حل ہونے کے بعد ہی معاوضہ جاری کیا جاسکتا ہے۔