جرائم و حادثات

احمد آباد میں دل دہلا دینے والا واقعہ: دن دہاڑے مسلم خاتون پر چاقو سے حملہ، خوفناک مناظر سی سی ٹی وی میں قید

احمد آباد کے علاقے بہرام پورہ میں دن دہاڑے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک مسلم شادی شدہ خاتون تمنا محسن شیخ پر کرانہ اسٹور کے اندر چاقو سے وحشیانہ حملہ کیا گیا۔

احمد آباد کے علاقے بہرام پورہ میں دن دہاڑے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک مسلم شادی شدہ خاتون تمنا محسن شیخ پر کرانہ اسٹور کے اندر چاقو سے وحشیانہ حملہ کیا گیا۔ یہ پورا واقعہ دکان میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں میں قید ہو گیا، جس کے بعد شہر بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور عوامی تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں
احمد آباد میں تیز رفتار کار ہجوم میں گھس گئی، 9 افراد ہلاک

اطلاعات کے مطابق، تمنا محسن شیخ روزمرہ خریداری کے لیے کرانہ اسٹور میں موجود تھیں کہ اچانک ایک نوجوان نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے ملزم کی شناخت رحیم عرف نعمان لطیف شیخ کے طور پر کی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم خاتون سے یہ سوال کرتا ہے کہ وہ اکیلی کیوں ہیں اور اس نے اس سے بات کرنا کیوں بند کر دی ہے۔ جب خاتون نے بات کرنے سے انکار کیا تو صورتحال لمحوں میں سنگین رخ اختیار کر گئی۔

چند ہی لمحوں بعد ملزم ایک لمبی تلوار نما چھری نکالتا ہے اور خاتون پر مسلسل وار شروع کر دیتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق خاتون کو تقریباً چار بار چاقو مارا گیا۔ وہ خود کو بچانے کے لیے پیچھے ہٹتی اور ہاتھ اٹھا کر دفاع کرنے کی کوشش کرتی نظر آتی ہیں۔ دکان میں موجود دیگر گاہک خوف کے مارے ادھر اُدھر بھاگنے لگے، جبکہ کچھ دیر بعد چند افراد نے آگے بڑھ کر زخمی خاتون کی مدد کی۔ فوٹیج میں خاتون کو شدید زخمی حالت میں درد سے چیختے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

دکان کے مالک نے فوری طور پر کپڑا فراہم کر کے خون بہنے سے روکنے کی کوشش کی، جس کے بعد زخمی خاتون کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق زخم سنگین ہیں، تاہم خاتون کی حالت فی الحال مستحکم بتائی جا رہی ہے اور وہ خطرے سے باہر ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق یہ حملہ دونوں کے درمیان دیرینہ ذاتی تنازع کا نتیجہ ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ملزم اور متاثرہ خاتون ایک عرصے سے ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ خاتون کی دوسری شادی کے بعد انہوں نے ملزم سے تمام رابطے ختم کر دیے تھے، جس کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ پولیس کے مطابق دونوں کے درمیان پہلے ہی عدالتی مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔

پولیس ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ملزم اس سے قبل بھی تلوار سے حملے کی کوشش جیسے سنگین الزامات کا سامنا کر چکا ہے، اور وہ معاملات بھی عدالت میں زیرِ غور ہیں۔ اس پس منظر کے سامنے آنے کے بعد عوام میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِ عمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہری یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ:

  • ایک ایسے شخص پر نظر کیوں نہیں رکھی گئی جس کا پرتشدد ماضی موجود تھا
  • سی سی ٹی وی کیمروں کا فائدہ کیا ہے اگر بروقت نگرانی اور کارروائی نہ ہو
  • سابقہ شکایات کے باوجود احتیاطی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے

شہریوں کا کہنا ہے کہ محض نگرانی کافی نہیں، جب تک سخت نفاذ اور فوری کارروائی نہ ہو، ایسے جرائم کو روکا نہیں جا سکتا۔

بہرام پورہ میں پیش آنے والا یہ چاقو حملہ ایک بار پھر دن کے اوقات میں بھی عوامی تحفظ میں موجود خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ مقامی باشندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بار بار جرائم میں ملوث افراد کی سخت نگرانی کی جائے اور مصروف علاقوں میں پولیس کی موجودگی اور احتیاطی اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے لرزہ خیز واقعات کو روکا جا سکے۔