حیدرآباد

تاریخی باغ عام کی دیکھ بھال میں غفلت: ہندوستان کے قدیم ترین پارکوں میں سے ایک کی حیثیت خطرے میں

تاہم، باغ عام کی ناقص دیکھ بھال، ورزش کے آلات کی کمی، بچوں کے کھیلنے کی خراب حالت، پینے کے پانی اور بیت الخلاء جیسی بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی اس کی حیثیت کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

حیدرآباد: شہر کا باغ عام، جو ہندوستان کے چھٹے قدیم ترین پارک کے طور پر جانا جاتا ہے، اور امرتسر کا جلیانوالہ باغ، جو ساتویں مقام پر ہے، تاریخی نشانات کے طور پر مشہور ہیں۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
حج ہاوز میں عازمین حج کے قیام و طعام کے انتظامات کا جائزہ
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام

تاہم، باغ عام کی ناقص دیکھ بھال، ورزش کے آلات کی کمی، بچوں کے کھیلنے کی خراب حالت، پینے کے پانی اور بیت الخلاء جیسی بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی اس کی حیثیت کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ غفلت جاری رہی تو باغ عام جلد ہی ہندوستان کے ٹاپ 10 قدیم ترین پارکوں کی فہرست سے باہر ہو سکتا ہے، جس سے اس کی تاریخی اہمیت کو نقصان پہنچے گا۔

حیدرآباد کے ماحولیات اور سماجی کارکن، محمد عابد علی، نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "باغ عام کی موجودہ حالت اس کے تاریخی ورثے کے لئے ایک خطرہ ہے۔ اگر فوری طور پر مناسب اقدامات نہیں کیے گئے تو یہ نہ صرف پارک کی حیثیت بلکہ شہر کی ثقافتی شناخت بھی متاثر ہوگی۔”

یہ صورت حال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہماری قدیم یادگاروں کی حفاظت اور دیکھ بھال کی کتنی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے لئے ان کی اہمیت برقرار رکھی جا سکے۔