حیدرآبادمذہب

پرانے شہر حیدرآباد میں گدھی کے دودھ کی کھلے عام فروخت، کیا اسلام میں جائز ہے اس کا استعمال کرنا؟

پرانے شہر کی گلیوں میں گدھی کے دودھ کی کھلے عام فروخت نے عوامی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں یہ معاملہ صحت اور دینی نقطۂ نظر دونوں حوالوں سے سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

پرانے شہر کی گلیوں میں گدھی کے دودھ کی کھلے عام فروخت نے عوامی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں یہ معاملہ صحت اور دینی نقطۂ نظر دونوں حوالوں سے سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ عام طور پر گھروں میں بکری، گائے، بھینس اور اونٹنی کے دودھ کا استعمال رائج ہے، تاہم حالیہ دنوں میں کچھ افراد کی جانب سے گدھی کا دودھ فروخت کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے چند افراد گدھی کے ساتھ پرانے شہر کی گلیوں میں گھومتے ہوئے دودھ فروخت کر رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس دودھ کی قیمت 20 ہزار روپے فی لیٹر تک وصول کی جا رہی ہے، جبکہ 10 ایم ایل دودھ 300 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ یہ فروخت مبینہ طور پر صحت اور تندرستی کے دعوؤں کے ساتھ کی جا رہی ہے۔

غیر ملکی ہیلتھ ویب سائٹس کے مطابق بعض ممالک میں گدھی کے دودھ کو اسکن کیئر مصنوعات، دہی اور چیز بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے، تاہم مقامی معاشرتی اقدار اور دینی اصولوں کے تناظر میں اس کے استعمال پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کچھ لوگ صحت کے نام پر اپنے بچوں کو بھی یہ دودھ پلا رہے ہیں۔

علمائے کرام نے اس معاملے پر واضح موقف اختیار کرتے ہوئے گدھی کے دودھ کو حرام قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام گلی کوچوں میں دودھ فروخت کرنے والے ایسے افراد سے ہوشیار رہیں اور اپنے بچوں کو حرام اشیا کے استعمال سے بچائیں۔ علما کے مطابق یہ معاملہ صرف صحت کا نہیں بلکہ دینی شعور اور ذمہ داری سے بھی جڑا ہوا ہے۔

شہری حلقوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لیا جائے، غیر قانونی فروخت پر کارروائی کی جائے اور عوام میں آگاہی پیدا کی جائے تاکہ صحت اور دینی اقدار دونوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔