ویڈیو: ایس آئی آر کیخلاف اویسی کی سپریم کورٹ میں درخواست
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے چہارشنبہ کو سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے طریقہ کار کو چیلنج کیا۔
نئی دہلی (پی ٹی آئی) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے چہارشنبہ کو سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے طریقہ کار کو چیلنج کیا۔
عدالت عظمیٰ نے اس معاملے سے متعلق زیر التوا دیگر درخواستوں کے ساتھ ان کی درخواست کی سماعت پر رضامندی ظاہر کی۔کانگریس لیڈر راہول گاندھی اور اپوزیشن کے 10 سرکردہ قائدین بھی ایس آئی آر اور اس سے متعلق دیگر کارروائیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرچکے ہیں۔
اویسی کی جانب سے پیش ہوئے وکیل نظام پاشا نے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی پر مشتمل بنچ سے درخواست کی کہ اس درخواست کو ان اسی نوعیت کے معاملات کے ساتھ فہرست میں شامل کیا جائے جن کی سماعت جمعرات کو عدالت عظمیٰ میں مقرر ہے۔
درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے پاشا نے بنچ کو بتایا کہ معاملہ اس طریقہ کار سے متعلق ہے جس کے تحت ایس آئی آر کی کارروائی انجام دی جا رہی ہے۔درخواست پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ وہ معاملے اور اسی نوعیت کی دیگر درخواستوں کا جائزہ لے گی۔
پاشا نے کہا کہ متعلقہ مقدمات کی نشاندہی ان کی جانب سے سماعت کے لیے درخواست کے ساتھ منسلک میمو میں کردی گئی ہے۔اویسی کی درخواست ایسے وقت میں داخل کی گئی ہے جب ایس آئی آر کے عمل اور اس نظرثانی کے نتیجے میں مبینہ طور پر ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے جانے کے خلاف متعدد قانونی چیلنجز سامنے آ رہے ہیں۔