دہلی

شرجیل امام کی درخواست کا جواب دینے پولیس کو ہدایت۔ جامعہ ملیہ 2019 تشدد کیس

دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز سماجی جہدکار شرجیل امام کی درخواست پر سٹی پولیس سے جواب مانگاہے جس کے ذریعہ 2019 کے جامعہ تشدد کیس میں ان کے خلاف الزامات وضع کرنے ٹرائل عدالت کے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے۔

نئی دہلی (پی ٹی آئی) دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز سماجی جہدکار شرجیل امام کی درخواست پر سٹی پولیس سے جواب مانگاہے جس کے ذریعہ 2019 کے جامعہ تشدد کیس میں ان کے خلاف الزامات وضع کرنے ٹرائل عدالت کے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء کو رہا نہیں کیا گیا: ایس ایف آئی
شرجیل امام کی درخواست ضمانت کی جنوری میں سماعت

جسٹس سنجیو نرولا نے اس کیس میں اس مرحلہ پر ٹرائل عدالت کی کارروائی کو روکنے سے بھی انکار کردیا۔ عدالت نے اصل درخواست پر اور حکم التوا کی درخواست پر پولیس کو نوٹس جاری کی اوراس معاملہ کی مزید سماعت 24 اپریل کو مقرر کی ہے۔

شرجیل امام نے ٹرائل عدالت کے 7 مارچ کے حکم کو چیلنج کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ نہ صرف اُکسانے والے تھے بلکہ تشدد بھڑکانے کی وسیع تر سازش کے سرغنہ بھی تھے اور ان کے خلاف اس کیس میں الزامات وضع کرنے کاحکم دیا تھا۔

ٹرائل عدالت نے کہا تھا کہ 13 دسمبر 2019 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی) کے قریب شرجیل امام نے زہریلی تقریر کی تھی اور یہ یقینا ایک نفرت انگیز تقریر تھی۔