معروف صحافی غضنفر علی خان کا انتقال
غضنفر علی خان کو اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی، تلگو، فارسی اور دیگر زبانوں پر غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ ان کی معلوماتی اور تجزیاتی تحریریں ریاستی اور قومی سطح کے اخبارات میں شائع ہوتی رہیں، جنہیں سنجیدہ صحافت کی ایک مضبوط مثال سمجھا جاتا تھا۔
حیدرآباد:شہرِ حیدرآباد کے معروف، سینئر اور باوقار صحافی جناب غضنفر علی خان صاحب کا طویل علالت کے بعد انتقال ہو گیا۔ وہ کافی عرصے سے علیل تھے اور ان کا علاج جاری تھا۔ ان کے انتقال سے صحافتی، ادبی اور علمی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
مرحوم غضنفر علی خان نے حیدرآباد کے کئی نامور اور معتبر اخبارات میں طویل عرصے تک خدمات انجام دیں۔ وہ ایک کہنہ مشق اداریہ نویس تھے اور ان کے مضامین اپنی سنجیدگی، تحقیق اور بصیرت کے باعث خاص پہچان رکھتے تھے۔ ان کی تحریروں نے عوام بالخصوص مسلم سماج کی فکری، سماجی اور تعلیمی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔
غضنفر علی خان کو اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی، تلگو، فارسی اور دیگر زبانوں پر غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ ان کی معلوماتی اور تجزیاتی تحریریں ریاستی اور قومی سطح کے اخبارات میں شائع ہوتی رہیں، جنہیں سنجیدہ صحافت کی ایک مضبوط مثال سمجھا جاتا تھا۔
مرحوم متحدہ آندھرا پردیش اردو اکیڈیمی میں جوائنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں اور مختلف ادبی و تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔
ان کی صحافتی اور علمی خدمات کے اعتراف میں انہیں قومی سطح پر متعدد اعزازات اور انعامات سے نوازا گیا۔ مرحوم کی کئی کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں، جو علمی اور فکری حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔
مرحوم کی نمازِ جنازہ آج بروز چہارشنبہ بعد نمازِ عشاء مسجد فردوس، ملے پلی میں ادا کی جائے گی، جبکہ تدفین عالمگیر مسجد شانتی نگر سے متصل قبرستان میں عمل میں آئے گی۔
مرحوم کے پسماندگان میں فرزندان شامل ہیں۔ مزید تفصیلات کے لیے مرحوم کے فرزند مظفر علی خان دانش سے فون نمبر 9948331827 پر رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔