درگا پوجا کے دوران ہزارہ بکروں کی بَلی، جانوروں کے حقوق کے علمبرداروں کے دوہرے معیار پر سوالات
جانوروں سے محبت صرف مسلمانوں کے تہواروں کے موقع پر ہی کیوں ظاہر ہوتی ہے؟
اتر پردیش : رپورٹس کے مطابق، درگا پوجا کے دوران یہاں تقریباً ہزارہ بکروں کی بَلی دی جاتی ہے۔ اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد جانوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کے رویّے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ وہ جانوروں سے محبت کرنے والے اور حقوقِ حیوانات کے علمبردار کہاں ہیں، جو عیدالاضحیٰ کے موقع پر مسلمانوں کو قربانی کے معاملے میں نصیحتیں کرتے ہیں؟ جب دوسرے مذہبی تہواروں کے دوران بھی جانوروں کی بَلی دی جاتی ہے تو پھر ان کی آواز کیوں سنائی نہیں دیتی؟
جانوروں سے محبت صرف مسلمانوں کے تہواروں کے موقع پر ہی کیوں ظاہر ہوتی ہے؟
کیا جانوروں کے حقوق کے معاملے میں سب کے لیے یکساں اصول نہیں ہونے چاہئیں؟ اگر جانوروں کے تحفظ اور ان کے حقوق کی بات کی جاتی ہے تو یہ اصول تمام مذاہب اور تہواروں پر یکساں طور پر لاگو ہونے چاہئیں۔
ناقدین کا سوال ہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی پر اعتراضات اور تنقید کرنے والے افراد دیگر مذہبی تقریبات میں جانوروں کی بَلی کے معاملے پر خاموش کیوں رہتے ہیں؟ جانوروں سے ہمدردی اور ان کے تحفظ کے نام پر دوہرا معیار کیوں اختیار کیا جاتا ہے؟
اہم سوال: جانوروں کے حقوق کا احترام ہر موقع پر یکساں ہونا چاہیے، نہ کہ صرف کسی ایک مذہب یا برادری کے تہوار کے وقت۔