تلنگانہ

منتھنی میں ریت مافیا پر سنگین الزامات، ریت کے ٹپر سے نوجوان کی دردناک موت

الزامات کے مطابق، سریدھر بابو کے بھائی سری سینکڑوں لاریوں کے ذریعے ریت کی سپلائی کا کاروبار چلا رہے ہیں، جس سے کروڑوں روپے کی آمدنی حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

منٹھنی: تلنگانہ کے منٹھنی اسمبلی حلقہ میں ریت سے لدے ٹپر کی زد میں آکر ایک نوجوان کی دردناک موت کے بعد ریت کی غیر معمولی نقل و حمل اور سڑکوں پر بھاری گاڑیوں کی آمدورفت کو لے کر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس حادثے کے بعد ریاستی وزیر ڈی سریدھر بابو کے بھائی سے مبینہ طور پر وابستہ ریت کی سپلائی کے کاروبار پر بھی الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

الزامات کے مطابق، سریدھر بابو کے بھائی سری سینکڑوں لاریوں کے ذریعے ریت کی سپلائی کا کاروبار چلا رہے ہیں، جس سے کروڑوں روپے کی آمدنی حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

روزانہ سینکڑوں ریت کی لاریاں، حادثات میں قیمتی جانوں کا نقصان

منٹھنی اسمبلی حلقہ میں روزانہ بڑی تعداد میں ریت سے لدی لاریاں گزرنے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق، بھاری گاڑیوں کی مسلسل آمدورفت سے سڑکوں پر حادثات کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور عام شہریوں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔

حالیہ حادثے میں نوجوان کی موت نے ایک مرتبہ پھر ریت کی نقل و حمل کے دوران حفاظتی انتظامات اور متعلقہ حکام کی نگرانی پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

کومن پور میں خاتون کی موت کا معاملہ بھی زیر بحث

اس سے قبل کومن پور میں ریت کی لاری کی زد میں آکر ایک خاتون کی موت کا واقعہ بھی سامنے آیا تھا۔ اس واقعے کے حوالے سے یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ سریدھر بابو کی سیاسی شبیہ کو نقصان سے بچانے کے لیے پولیس اہلکاروں نے خود سڑک کی صفائی کی تھی۔

تاہم، اس الزام کی بھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہی پولیس کے کردار کے بارے میں کوئی مستند ثبوت سامنے آیا ہے۔

تحقیقات اور حفاظتی اقدامات کا مطالبہ

حالیہ حادثے کے بعد ریت کی سپلائی اور نقل و حمل کے نظام کی جانچ، بھاری گاڑیوں کے لیے حفاظتی ضوابط پر عمل آوری اور حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

عوامی حلقوں میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اگر ریت کی نقل و حمل میں کسی قسم کی بے ضابطگی یا حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی پائی جائے تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

واضح رہے کہ وزیر کے بھائی کے مبینہ کاروبار اور پولیس کے کردار سے متعلق الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔