حیدرآباد

حیدرآباد میں پانی کا سنگین بحران، روزانہ 150 ایم جی ڈی کی قلت، 300 فٹ کے بورویل بھی اب خشک

حیدرآباد کے کئی آئی ٹی کوریڈورز اور مضافاتی رہائشی علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں تشویش ناک گراوٹ دیکھی جارہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جن علاقوں میں پہلے تقریباً 300 فٹ گہرائی پر بورویل سے پانی دستیاب ہوجاتا تھا، وہاں اب 800 سے 1,000 فٹ تک کھدائی کے باوجود پانی نہیں مل رہا ہے۔

حیدرآباد: شہر میں مانسون کی کم بارش، زیرِ زمین پانی کی سطح میں مسلسل گراوٹ اور پینے کے پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث آبی بحران سنگین ہوتا جارہا ہے۔ کئی علاقوں میں بورویل خشک ہونے اور گھروں کے نلوں و سمپس میں پانی نہ پہنچنے کی شکایات کے درمیان حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ (ایچ ایم ڈبلیو ایس ایس بی) کو روزانہ تقریباً 150 ملین گیلن پانی کی قلت کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، واٹر بورڈ فی الحال حیدرآباد کے شہری خطے کو روزانہ 585 ملین گیلن پانی فراہم کررہا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روزانہ 735 ملین گیلن پانی درکار ہے۔ اس طرح طلب اور سپلائی کے درمیان 150 ملین گیلن کا فرق برقرار ہے۔

واٹر بورڈ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق، آبادی کے تخمینوں کی بنیاد پر تقریباً 1.3 کروڑ افراد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روزانہ 735 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جانا چاہیے۔ پانی کی قلت کی اہم وجوہات میں ذخیرہ کرنے کی محدود گنجائش، پرانی پائپ لائنوں کا نظام اور شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافہ شامل ہیں۔

2,053 مربع کلومیٹر تک پھیل گیا واٹر بورڈ کا دائرہ اختیار

گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کی تقسیمِ نو کے بعد ایچ ایم ڈبلیو ایس ایس بی کا دائرہ اختیار بڑھ کر 2,053 مربع کلومیٹر ہوگیا ہے۔ اس میں کور اربن ریجن اکانومی (کیور) کے تحت گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن، سائبرآباد میونسپل کارپوریشن اور ملکاجگیری میونسپل کارپوریشن کے علاقے شامل ہیں۔

شہر کے اطراف تیزی سے پھیلتی رہائشی کالونیوں اور شہری آبادی میں اضافے کے ساتھ پانی کی طلب بھی بڑھ گئی ہے، لیکن موجودہ آبی وسائل اور تقسیم کا نظام اس طلب کو پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا کررہا ہے۔

300 فٹ کے بورویل بھی اب خشک

حیدرآباد کے کئی آئی ٹی کوریڈورز اور مضافاتی رہائشی علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں تشویش ناک گراوٹ دیکھی جارہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جن علاقوں میں پہلے تقریباً 300 فٹ گہرائی پر بورویل سے پانی دستیاب ہوجاتا تھا، وہاں اب 800 سے 1,000 فٹ تک کھدائی کے باوجود پانی نہیں مل رہا ہے۔

زیرِ زمین آبی ذخائر کی اس کمی کے باعث متعدد علاقوں کے مکین نجی واٹر ٹینکروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ مانسون کے دوران معمول سے کم بارش نے بھی صورتحال کو مزید مشکل بنادیا ہے۔ شہر کے اہم آبی ذخائر میں پانی کی سطح مسلسل کم ہونے سے آئندہ موسمِ سرما میں پانی کی دستیابی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

کن آبی ذخائر سے کتنا پانی حاصل ہورہا ہے؟

واٹر بورڈ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، شہر کو پانی فراہم کرنے والے اہم آبی ذرائع سے روزانہ حاصل ہونے والے پانی کی مقدار درج ذیل ہے:

آبی ذخیرہمقررہ مقدار (ایم جی ڈی)موجودہ سپلائی (ایم جی ڈی)
عثمان ساگر2723
حمایت ساگر1814
سنگور7571
منجیرہ4544
کرشنا (اکمپلی)270270
گوداوری (یلّم پلی)162162
مجموعی مقدار597584

ان اعداد و شمار کے مطابق، عثمان ساگر، حمایت ساگر، سنگور اور منجیرہ سے مقررہ مقدار کے مقابلے میں کم پانی حاصل ہورہا ہے، جبکہ کرشنا اور گوداوری سے پانی کی سپلائی مقررہ مقدار کے مطابق جاری ہے۔

پانی کی قلت دور کرنے کے لیے اقدامات کی تیاری

واٹر بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں کے مطابق، روزانہ 150 ایم جی ڈی کی کمی کو پورا کرنا ادارے کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، پانی کی تقسیم کے نظام میں اصلاحات اور طویل مدتی آبی منصوبوں پر کام کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

فی الحال کور اربن ریجن اکانومی کے علاقے میں گھریلو صارفین، تجارتی اداروں، بڑی تجارتی اکائیوں اور صنعتی صارفین سمیت مجموعی طور پر 14,59,608 صارفین واٹر بورڈ سے وابستہ ہیں۔

بڑے شہروں میں فی کس پانی کی فراہمی

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، مختلف میٹرو شہروں میں فی کس یومیہ پانی کی فراہمی کی صورتحال کچھ اس طرح ہے:

شہرفی کس یومیہ پانی کی فراہمی
حیدرآباد150LPCD
بنگلورو108LPCD
چنئی135LPCD
دہلی172LPCD

حیدرآباد میں فی کس یومیہ پانی کی فراہمی 150LPCDبتائی گئی ہے، تاہم شہر کی مجموعی بڑھتی ہوئی طلب، زیرِ زمین پانی کی کمی اور آبی ذخائر میں گرتی سطح نے پانی کی مسلسل اور قابلِ اعتماد فراہمی کو ایک بڑا چیلنج بنادیا ہے۔ آنے والے دنوں میں آبی وسائل کا بہتر انتظام اور پانی کی تقسیم کے نظام کو مضبوط بنانا شہریوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم ہوگا۔