حیدرآباد

سنگور آبی ذخیرہ میں پانی کی قلت، سپلائی میں کٹوتی کا فیصلہ

واٹر بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ ان اداروں کو آئندہ سال جون تک پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل انتظامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکام کو توقع ہے کہ جون میں بارشوں کے بعد سنگور ذخیرے میں پانی کی نئی آمد شروع ہوسکتی ہے۔

حیدرآباد: سنگور آبی ذخیرے میں پانی کی سطح تیزی سے کم ہونے کے باعث حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ (ایچ ایم ڈبلیو ایس ایس بی) نے کئی اہم اداروں کو پانی کی سربراہی میں 20 سے 50 فیصد تک کٹوتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

متاثر ہونے والے اداروں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی حیدرآباد (آئی آئی ٹی ایچ)، بھارت ہیوی الیکٹریکلس لمیٹڈ (بی ایچ ای ایل)، آرڈیننس فیکٹری (او ڈی ایف) اور بھارت ڈائنامکس لمیٹڈ (بی ڈی ایل) شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، واٹر بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ ان اداروں کو آئندہ سال جون تک پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل انتظامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکام کو توقع ہے کہ جون میں بارشوں کے بعد سنگور ذخیرے میں پانی کی نئی آمد شروع ہوسکتی ہے۔

سنگور آبی ذخیرے میں اس وقت صرف 3.70 ٹی ایم سی فٹ پانی باقی رہ گیا ہے، جبکہ اس کی مکمل گنجائش 29.91 ٹی ایم سی فٹ ہے۔ پانی کی قلت کے پیش نظر آبپاشی حکام نے فوری پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سنگور سے منجیرہ میں 0.150 ٹی ایم سی فٹ پانی چھوڑا ہے۔ تاہم، منجیرہ ذخیرے میں بھی پانی کی سطح انتہائی کم ہے اور وہاں صرف 0.200 ٹی ایم سی فٹ پانی موجود ہے۔

مشروبات تیار کرنے والی کمپنیوں کو بھی پانی کی فراہمی محدود

ذخائر میں پانی کی کمی کے باعث مشروبات تیار کرنے والی کمپنیوں کو بھی پانی کی سربراہی بتدریج کم کی جا رہی ہے۔ اگرچہ حکام نے سنگاریڈی میں بیئر اور دیگر مشروبات تیار کرنے والی کمپنیوں کو فراہم کیے جانے والے پانی کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم ذرائع کے مطابق سپلائی پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، پیر کے روز بھی ایک مشروبات تیار کرنے والی کمپنی کو 5,000 لیٹر پانی فراہم کیا گیا، جبکہ کیمیکل کمپنیوں کو پانی کی سربراہی حال ہی میں بند کردی گئی ہے۔

ایک ماہ میں سنگور ذخیرہ خشک ہونے کا خدشہ

پانی کی موجودہ صورتحال آئندہ دنوں میں مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر پانی کی نئی آمد نہیں ہوئی تو سنگور آبی ذخیرہ ایک ماہ کے اندر خشک ہوسکتا ہے۔

سنگور اور منجیرہ ذخائر میں پانی کی گرتی ہوئی سطح نہ صرف صنعتی اداروں بلکہ حیدرآباد کے ان علاقوں کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہے جہاں پانی کی فراہمی ان ذخائر پر منحصر ہے۔