مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں اور امریکی صحافی پر آبادکاروں کا وحشیانہ حملہ
اسرائیلی آبادکاروں نے جمعہ کو مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی فصل کی کٹائی میں مصروف فلسطینیوں اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی فوٹو جرنلسٹ پر وحشیانہ حملہ کیا۔ حملہ آوروں نے دیہاتیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور زیتون کے باغات میں آگ لگا دی۔
رام اللہ: اسرائیلی آبادکاروں نے جمعہ کو مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی فصل کی کٹائی میں مصروف فلسطینیوں اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی فوٹو جرنلسٹ پر وحشیانہ حملہ کیا۔ حملہ آوروں نے دیہاتیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور زیتون کے باغات میں آگ لگا دی۔
یہ واقعہ فلسطینیوں کو زیتون کی فصل جمع کرنے سے روکنے کے لیے کیے جانے والے متعدد حملوں میں سے ایک ہے۔ قریبی علاقوں میں بھی فلسطینیوں پر حملوں اور آتش زنی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
مقامی آبادی کے خلاف غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے رہائشیوں کے حملوں میں گزشتہ کئی ہفتوں سے شدت آئی ہے۔ ان آبادکاروں کو اسرائیلی فوج کی جانب سے بڑی حد تک تحفظ حاصل ہے یا کم از کم انہیں کارروائیوں سے روکا نہیں جاتا۔
واشنگٹن پوسٹ کے لیے کام کرنے والی 64 سالہ تجربہ کار امریکی فوٹو جرنلسٹ ہیڈی لیوائن کو جمعہ کے روز رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع ابو فلاح میں حملے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا۔ الجزیرہ اور فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا سے گفتگو کرنے والے ایک عینی شاہد کے مطابق، ایک فلسطینی شخص کی ران میں بھی اسرائیلی فوجیوں نے گولی مار دی۔
درجنوں نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں نے زیتون کی فصل کاٹنے والے فلسطینی کسانوں پر حملہ کیا۔ انہوں نے پتھراؤ کیا، غلیلوں کا استعمال کیا اور درختوں کو آگ لگا دی۔
عینی شاہدین کے مطابق، حملے کے دوران امریکی فری لانس فوٹو جرنلسٹ ہیڈی لیوائن زمین پر گر گئیں، جس کے بعد حملہ آوروں نے انہیں گھیر کر تشدد کا نشانہ بنایا۔
حملے کا مشاہدہ کرنے والے آزاد صحافی جیسپر نیتھنیئل نے الجزیرہ کو بتایا، ”ہم نے دیکھا کہ ایک صحافی زمین پر پڑی ہوئی تھیں اور لوگ انہیں گھیر کر مار رہے تھے، ڈنڈوں سے پیٹ رہے تھے، ان کا سامان لوٹ رہے تھے، انہیں اٹھا کر دوبارہ مار رہے تھے اور لاتیں مار رہے تھے۔”
لیوائن نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ حملہ آور انہیں مسلسل لاتیں مارتے رہے اور اندازاً 50 مرتبہ ایسا کیا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، لیوائن نے حفاظتی جیکٹ پہن رکھی تھی، جس کے آگے اور پیچھے ”پریس” لکھا ہوا تھا۔ حملے کے دوران ان کے کیمرے اور موبائل فون بھی چھین لیے گئے۔
نیتھنیئل نے بتایا کہ جب آبادکار کچھ دیر کے لیے پیچھے ہٹے تو وہ اور دیگر افراد لیوائن تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، لیکن وہ اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو پا رہی تھیں۔
انہوں نے کہا، ”ان کی حالت بہت زیادہ خراب تھی۔ وہ زمین سے اٹھ بھی نہیں پا رہی تھیں۔”
نیتھنیئل کے مطابق، جب لوگ لیوائن کو طبی امداد فراہم کرنے والے عملے تک پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے تو آبادکاروں نے دوبارہ حملہ کردیا اور مزید پتھراؤ کیا۔ بالآخر لیوائن کو رام اللہ کے اسپتال منتقل کیا گیا۔
نیتھنیئل نے بتایا کہ آبادکاروں کے حملے کے بعد اسرائیلی فوجی موقع پر پہنچے اور فلسطینیوں پر فائرنگ کرنے کے ساتھ آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اس دوران ایک فلسطینی شخص کی ٹانگ میں گولی ماری گئی۔ انہوں نے کہا، ”وہ آبادکاروں کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کرتے۔
اس کے بجائے تیزی سے شہر میں داخل ہوتے ہیں، فائرنگ کرتے ہیں، آنسو گیس چھوڑتے ہیں اور ایک فلسطینی شخص کی ٹانگ میں گولی مار دیتے ہیں۔”
نیتھنیئل کے مطابق، فوجیوں نے زخمی شخص کی مدد کرنے والے طبی عملے پر بندوقیں تانیں اور ان سمیت دیگر صحافیوں کو دھکے بھی دیے۔ بعد میں زخمی شخص کو ایمبولینس کے ذریعے منتقل کردیا گیا۔
واشنگٹن پوسٹ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر میٹ مرے نے ایک بیان میں کہا، ”ہم اپنے فرائض انجام دینے والی ایک صحافی پر اس بلاجواز حملے سے سخت برہم ہیں اور حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے۔”
وفا کے مطابق، حملے کے دوران اسرائیلی فورسز نے فلسطینیوں پر اصلی گولیاں چلائیں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ نیتھنیئل نے بتایا کہ فوجیوں کے چلے جانے کے بعد فلسطینی دوبارہ اپنے زیتون جمع کرنے کے کام میں لگ گئے۔