قومی

ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیاں ، مرکز اور الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کی نوٹس

سپریم کورٹ نے ووٹر لسٹوں میں بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج اور مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات سے متعلق ایک عرضی پر مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ووٹر لسٹوں میں بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج اور مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات سے متعلق ایک عرضی پر مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

عرضی میں انتخابی فہرستوں سے ووٹروں کے نام مبینہ طور پر حذف کیے جانے اور ووٹر لسٹوں میں بے ضابطگیوں پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا ہے۔

ایک متعلقہ پیش رفت میں سپریم کورٹ نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور دیگر کانگریسی قائدین کو بھی نوٹس جاری کیے ہیں۔ یہ نوٹس مبینہ طور پر ایک ریلی کو عدالت کے احاطے تک لے جانے کے معاملے میں جاری کیے گئے ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے کانگریس قائدین کے طرز عمل کے تناظر میں مبینہ طور پر کہا کہ کسی کو بھی عدلیہ کو دھمکانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اس پیش رفت کے بعد انتخابی فہرستوں میں شفافیت، ووٹروں کے حقوق اور عدلیہ کے وقار سے متعلق معاملات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

مرکزی حکومت، الیکشن کمیشن اور کانگریس قائدین کے جوابات سمیت معاملے کی مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔