رمضانمذہب

قرآن شریف کی قسم اور کفارہ

ایک لڑکی نے قرآن شریف کی قسم کھائی کہ وہ کبھی بھی اس کی سہیلی کے گھر نہیں جائے گی، لیکن اس کی سہیلی بار بار اس کے گھر آنے کو کہہ رہی ہے، وہ کو ئی نہ کوئی بہانہ بنالیتی ہے، اسے وہ سہیلی بہت عزیز بھی ہے،

سوال:- ایک لڑکی نے قرآن شریف کی قسم کھائی کہ وہ کبھی بھی اس کی سہیلی کے گھر نہیں جائے گی، لیکن اس کی سہیلی بار بار اس کے گھر آنے کو کہہ رہی ہے، وہ کو ئی نہ کوئی بہانہ بنالیتی ہے، اسے وہ سہیلی بہت عزیز بھی ہے، لڑکی کو خیال آتاہے کہ اگر میں اپنی سہیلی کے گھر نہ جاؤں تو شاید ا س کی موت واقع ہوجائے، اس سلسلہ میں حکم شرعی کیاہے؟ ( آمنه كوثر، حشمت پیٹ)

جواب:- قرآن شریف کی قسم کھانے سے قسم ہوجاتی ہے، اگر سہیلی کے یہاں نہ جانے کی قسم کھانا کسی امر شرعی کی بناپرتھا، جیسے غیر محرم کاآمنا سامنا وغیرہ، تب تو یہ قسم درست تھی اور اگر محض کدورت کی بناپر تھا، تو اس کی قسم کھانا درست نہیں،

بہر حال قسم سے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ اگر شرعانامناسب ہونے کی وجہ سے یاخود اپنی مجبوری کے تحت قسم توڑنی پڑے، تو قسم کاکفارہ اداکردے، کفارہ دس مسکینوں کودووقت کھاناکھلانا، یادس مسکینوں کے لیے کپڑے بناناہے،

اگراس کی طاقت نہ ہوتو تین دنوں تک روزے رکھ لے،(مائدہ:۸۹) باقی یہ سمجھناکہ اس کی خلاف ورزی کی وجہ سے موت واقع ہوجائے گی تو ایسی کوئی بات قرآن وحدیث میں منقول نہیں،

یہ محض وہم ہے، اس لڑکی کو چاہیے کہ پہلے سہیلی کے یہاں جائے، اس کے بعد قسم کاکفارہ ادا کردے پھر آئندہ جانے پر دوبارہ کفارہ واجب نہیں ہوگا۔