حضرت امام حسنؓ کا اسوۂ حسنہ آج بھی امت کے لیے مشعلِ راہ،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
آپ ﷺ نے فرمایا:’’میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کرائے گا
حیدرآباد : خطیب وامام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے بتلایا کہ تاریخِ اسلام میں کچھ ہستیاں ایسی ہیں جن کی ذات فقط ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک کردار کی نمائندہ ہوتی ہے۔ وہ اپنے عمل سے امت کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ اقتدار سے بڑھ کر اتحاد، اور حکومت سے بڑھ کر اُمت کی سلامتی ہے۔ انہی درخشندہ و تابندہ نفوس میں ایک نام حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے، جو پیکرِ علم و حکمت، مجسمۂ صبر و حلم اور عنوانِ صلح و اخوت تھے۔
آپؓ نواسۂ رسول، جگر گوشۂ بتول اور شیرِ خدا کے لختِ جگر تھے۔ آپ کی ذات اقدس میں نبوت کی خوشبو، علیؓ کی شجاعت، فاطمہؓ کی عفت اور خدیجہؓ کی سخاوت یکجا ہوکر ایک ایسا مرقع بن گئی تھی جسے تاریخ آج بھی رشک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔حضرت امام حسنؓ کی ولادت 15 رمضان المبارک 3 ہجری کو مدینۂ منورہ میں ہوئی۔ رسول اکرم ﷺ نے خود آپ کے کان میں اذان و اقامت کہی، اپنے لعابِ دہن سے گھٹی دی اور ساتویں دن عقیقہ فرمایا۔ آپؓ کا نام بھی بارگاہِ نبوت سے عطا ہوا۔حضور اکرم ﷺ آپ کو بے حد محبوب رکھتے تھے۔ کبھی سینۂ اقدس سے لگاتے، کبھی کندھوں پر بٹھاتے، اور کبھی سجدہ طویل فرما دیتے تاکہ حسنؓ اپنی ننھی سی خوشی پوری کرلیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:’’میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کرائے گا۔‘‘یہ ارشادِ نبوی دراصل امام حسنؓ کی آئندہ زندگی کا عنوان تھا۔امام حسنؓ زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت اور عفو و درگزر کا عملی نمونہ تھے۔ آپؓ دن کو اکثر روزہ رکھتے اور رات کو قیام و سجود میں گزارتے۔ بیس حج آپؓ نے مدینہ سے مکہ تک پیدل ادا کیے۔ فرماتے تھے:’’مجھے اپنے رب سے حیا آتی ہے کہ اس کی بارگاہ میں سواری پر سوار ہوکر حاضر ہوں۔‘‘سخاوت کا یہ عالم تھا کہ کئی بار سارا مال راہِ خدا میں دے دیا، حتیٰ کہ ایک جوتا رکھا تو دوسرا دے دیا۔ کسی نے بدسلوکی کی تو مسکرا کر معاف کردیا۔ دشمن بھی آپ کے حلم کے معترف تھے۔
40 ہجری میں حضرت علی المرتضیٰؓ کی شہادت کے بعد آپؓ مسندِ خلافت پر فائز ہوئے۔ ہزاروں مسلمانوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ مگر حالات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد آپؓ نے یہ محسوس کیا کہ اگر اقتدار کی کشمکش جاری رہی تو امت کا شیرازہ بکھر جائے گا۔چنانچہ 41 ہجری میں آپؓ نے حضرت معاویہؓ کے ساتھ صلح کرکے خلافت سے دستبرداری اختیار کرلی۔ یہ اقدام بظاہر اقتدار سے کنارہ کشی تھا، مگر درحقیقت امت کے خون کی حفاظت اور اتحادِ ملت کی عظیم قربانی تھی۔ اسی بنا پر آپؓ کو ’’امامِ صلح‘‘ کہا جاتا ہے۔
آپؓ کا یہ فیصلہ رہتی دنیا تک اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اسلام میں اقتدار مقصد نہیں بلکہ عدل و امن کا قیام مقصد ہے۔امام حسنؓ نے علمِ دین براہِ راست آغوشِ نبوت اور گہوارۂ علوی میں پایا۔ حدیث میں آپؓ سے تیرہ روایات مروی ہیں۔ فقہ میں مہارت رکھتے تھے اور مدینہ کی جماعتِ افتاء کے معتمد رکن تھے۔ آپ کی زبان سے کبھی فحش یا تلخ کلمہ ادا نہ ہوا۔
علم کے ساتھ حلم، اور حلم کے ساتھ وقار—یہی آپ کی پہچان تھی۔
مدینہ طیبہ میں قیام کے دوران آپؓ کو کئی بار زہر دیا گیا۔ آخری بار ایسا زہر دیا گیا جس سے چالیس دن شدید تکلیف میں مبتلا رہے۔ جب حضرت حسینؓ نے زہر دینے والے کا نام پوچھا تو فرمایا:
’’میں اس کا نام نہیں بتاؤں گا، اللہ خود اس سے بدلہ لینے والا ہے۔‘‘
ربیع الاول 49 ہجری میں آپؓ نے جامِ شہادت نوش فرمایا اور جنت البقیع میں اپنی والدہ ماجدہ کے پہلو میں مدفون ہوئے۔
اخلاقِ حسنؓ — امت کے لیے مشعلِ راہ
امام حسنؓ کی زندگی کا ہر گوشہ امت کے لیے سبق ہے اقتدار چھوڑ کر اتحاد اپنانا بدلہ لینے کے بجائے درگزر کرنا مال سے بے نیازی اور اللہ سے وابستگی
علم کے ساتھ حلم کا امتزاج
آپؓ واقعی پیکرِ علم و حکمت، باعثِ خیر و برکت اور وارثِ دین و جنت تھے۔مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے آخر میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسوۂ حسنہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور امتِ مسلمہ کو ان کے نقشِ قدم پر اتحاد و اتفاق نصیب فرمائے۔ آمین۔