میڈی گڈہ میں بم دھماکے کی آواز سنائی دی تھی، سابق انجینئر اِن چیف کے بیان سے سیاسی بحث تیز
تلنگانہ کے کالیشورم لفٹ اریگیشن پروجیکٹ کے تحت میڈی گڈہ بیراج کے ستونوں میں دراڑیں پڑنے اور ساختی نقصان کے معاملے پر ایک بار پھر سیاسی بحث تیز ہوگئی ہے۔ سابق انجینئر اِن چیف مرلی دھر راؤ سے منسوب بیان کے بعد اس واقعے کی وجوہات پر نئے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے کالیشورم لفٹ اریگیشن پروجیکٹ کے تحت میڈی گڈہ بیراج کے ستونوں میں دراڑیں پڑنے اور ساختی نقصان کے معاملے پر ایک بار پھر سیاسی بحث تیز ہوگئی ہے۔ سابق انجینئر اِن چیف مرلی دھر راؤ سے منسوب بیان کے بعد اس واقعے کی وجوہات پر نئے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، مرلی دھر راؤ نے کانگریس وزراء کی موجودگی میں کہا تھا کہ میڈی گڈہ کے قریب بم پھٹنے جیسی آواز سنائی دی تھی۔ انہوں نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی بھی بات کہی تھی۔
اس بیان کے سامنے آنے کے بعد بی آر ایس قائدین کی جانب سے پہلے لگائے گئے الزامات ایک مرتبہ پھر موضوعِ بحث بن گئے ہیں۔ بی آر ایس قائدین کا الزام رہا ہے کہ میڈی گڈہ کے قریب سیاسی سازش کے تحت بم نصب کرکے دھماکے کیے گئے، جس کے نتیجے میں بیراج کے ستونوں میں دراڑیں پڑیں۔
بی آر ایس قائدین کا کہنا ہے کہ سابق انجینئر اِن چیف کے بیان سے ان کے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ میڈی گڈہ میں پیش آنے والے واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔ تاہم، دھماکے کی آواز سنائی دینے کے دعوے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہاں جان بوجھ کر بم نصب کیے گئے تھے یا بیراج کو نقصان اسی وجہ سے پہنچا۔
میڈی گڈہ بیراج کالیشورم پروجیکٹ کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کے بعض ستونوں میں ساختی مسائل سامنے آنے کے بعد سے یہ معاملہ تلنگانہ کی سیاست میں تنازعہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ کانگریس حکومت اور اپوزیشن بی آر ایس کے درمیان اس مسئلے پر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔
کانگریس حکومت کی جانب سے پروجیکٹ کی تعمیر اور دیکھ بھال کے معاملات پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں، جبکہ بی آر ایس قائدین بیراج کو پہنچنے والے نقصان کے حالات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
اس معاملے کی حقیقت سامنے لانے کے لیے ضروری ہے کہ اس بات کی تحقیقات کی جائیں کہ آیا واقعی کوئی دھماکہ ہوا تھا، مبینہ آواز کی اصل وجہ کیا تھی اور آیا اس کا بیراج کے ستونوں کو پہنچنے والے نقصان سے کوئی تعلق تھا۔
فی الحال دستیاب معلومات کی بنیاد پر بی آر ایس کے اس الزام کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ میڈی گڈہ میں جان بوجھ کر بم دھماکہ کیا گیا تھا۔ مرلی دھر راؤ سے منسوب بیان کے بعد اب اس معاملے پر مزید تحقیقات اور سرکاری وضاحت کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔