باپ کی جوانی نے سب کو حیران کردیا
چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ میں ایک شادی کی تقریب اس وقت سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئی جب 41 سالہ باپ اپنی 21 سالہ بیٹی کے ساتھ کھڑے تھے۔ ان کی جوان اور فٹ نظر آنے والی شخصیت دیکھ کر کئی لوگ انہیں دلہن کا بھائی سمجھ بیٹھے۔ جب لوگوں نے ان کی جوانی کا راز پوچھا تو انہوں نے صرف تین معمولی عادتوں کا ذکر کیا۔
بیجنگ: چین میں ایک 41 سالہ شخص کی جوان نظر آنے والی شخصیت نے سوشل میڈیا صارفین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ژینگ نامی اس شخص کی 21 سالہ بیٹی کی شادی کی تصاویر اور ویڈیو ان دنوں انٹرنیٹ پر وائرل ہو رہی ہیں۔ شادی میں موجود مہمانوں کو ژینگ کی شخصیت دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگیا کہ وہ دلہن کے والد ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے داماد بھی پہلی ملاقات میں ان کی جوانی دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔
کیا ہے ژینگ کی جوانی کا راز؟
رپورٹ کے مطابق، جب لوگوں نے ژینگ سے ان کی جوانی اور فٹنس کا راز دریافت کیا تو انہوں نے کسی مہنگے علاج، خاص اسکن کیئر پروڈکٹ یا سخت ڈائٹ پلان کا ذکر نہیں کیا، بلکہ اپنی روزمرہ زندگی کی تین عادتوں کو اس کا سبب بتایا۔
ژینگ کے مطابق، وہ اپنی زندگی میں تین باتوں کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔
- پرسکون ذہن: وہ غصے اور غیر ضروری ذہنی دباؤ سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر حال میں اپنے ذہن کو پرسکون رکھتے ہیں۔
- بھرپور نیند: ژینگ کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ تقریباً 10 سے 12 گھنٹے سوتے ہیں اور جسم کو مناسب آرام دیتے ہیں۔
- بیڈمنٹن کھیلنا: وہ فٹ رہنے کے لیے جم جانے کے بجائے ہفتے میں تین سے چار مرتبہ بیڈمنٹن کھیلتے ہیں، جس سے ان کے مطابق جسم میں چستی اور توانائی برقرار رہتی ہے۔
ماہرین اچھی نیند اور ورزش کو اہم قرار دیتے ہیں
امریکی ادارہ برائے امراض پر قابو و انسداد (CDC) کے مطابق، 18 سے 60 سال کی عمر کے بالغ افراد کو عموماً ہر رات کم از کم سات گھنٹے کی نیند لینی چاہیے۔ مناسب نیند اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی صحت کو بہتر بنانے اور ذہنی دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
تاہم، ہر شخص کے لیے 10 سے 12 گھنٹے سونا ضروری نہیں ہے۔ نیند کی ضرورت عمر، صحت اور انفرادی حالات کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے۔
ژینگ کی کہانی نے ایک بار پھر اس بات کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ صحت مند طرزِ زندگی میں نیند، جسمانی سرگرمی اور ذہنی سکون اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ کسی شخص کی ظاہری عمر پر جینیاتی عوامل سمیت کئی چیزیں اثر انداز ہوتی ہیں، لیکن روزمرہ کی اچھی عادتیں مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔