سعودی عرب میں دو بنگلہ دیشیوں کو سزائے موت، مزید 20 کے انجام پر سوالیہ نشان؟
سعودی حکام کی جانب سے بھیجی گئی فہرست میں 22 بنگلہ دیشی شہریوں کو مجرم قرار دئے جانے کا اسٹیٹس درج ہے تاہم ان کے فیصلوں اور سزاؤں سے متعلق کالم خالی ہیں۔
ڈھاکہ۔ سعودی عرب میں قید 22 بنگلہ دیشی شہریوں کے ناموں کے آگے ’مجرم قرار دئے جانے‘ کا اسٹیٹس درج ہونے کے باوجود ان کی سزاؤں کی تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔ ان میں سے دو شہریوں، نظرالاسلام اور سویٹی اختر کو مکہ مکرمہ کی ایک مسجد میں مبینہ غیر اخلاقی سرگرمیوں کے معاملہ میں سزائے موت دئے جانے کی خبر نے بنگلہ دیش میں شدید ردعمل پیدا کردیا ہے۔ باقی 20 شہریوں کو کیا سزا سنائی گئی ہے، اس بارے میں تاحال وضاحت نہیں ہوسکی ہے۔
بنگلہ دیشی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام کی جانب سے بھیجی گئی فہرست میں 22 بنگلہ دیشی شہریوں کو مجرم قرار دئے جانے کا اسٹیٹس درج ہے تاہم ان کے فیصلوں اور سزاؤں سے متعلق کالم خالی ہیں۔ اس وجہ سے یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان افراد کو قید کی سزا سنائی گئی ہے یا سزائے موت دی گئی ہے۔
سزاؤں کی تفصیلات کے لیے سعودی حکام کو مکتوب
بنگلہ دیشی اخبار ’پرتھم آلو‘ کی رپورٹ کے مطابق جدہ میں قائم بنگلہ دیشی قونصل خانہ بھی ان 20 شہریوں کی سزاؤں کے بارے میں معلومات حاصل نہیں کرسکا ہے۔ قونصل خانہ نے 19 اکتوبر کو سعودی وزارت خارجہ کی جدہ شاخ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فیصلوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 30 ستمبر کو سعودی وزارت خارجہ نے جدہ میں بنگلہ دیشی قونصل خانہ کے دائرہ اختیار میں آنے والی جیلوں میں قید 2,461 بنگلہ دیشی شہریوں کی فہرست روانہ کی تھی۔ ان میں بعض قیدیوں کے مقدمات مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ دیگر کے مقدمات زیرسماعت ہیں۔
فہرست کا جائزہ لینے پر قونصل خانہ نے پایا کہ بعض قیدیوں کے ناموں کے سامنے ’مجرم قرار دیا گیا‘ درج ہے، لیکن فیصلہ کے خلاصہ والے کالم میں سزا کی نوعیت اور مدت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اسی معاملہ پر سعودی حکام سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔
قتل، منشیات اور دیگر مقدمات میں شہری گرفتار
سعودی حکام کی جانب سے فراہم کردہ فہرست کے مطابق ان 22 بنگلہ دیشی شہریوں میں سے آٹھ کے خلاف قتل، پانچ کے خلاف منشیات کی اسمگلنگ اور پانچ کے خلاف ’ذاتی حقوق‘ سے متعلق مقدمات درج ہیں۔ اس کے علاوہ دو مقدمات سعودی قوانین کی خلاف ورزی، ایک سائبر کرائم اور ایک زنا کے الزام سے متعلق بتایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نظرالاسلام کو یکم اگست 2023 کو سعودی عرب کے سائبر کرائم قانون کے تحت حراست میں لیا گیا تھا جبکہ سویٹی اختر کو اگلے روز زنا کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ان دونوں کو سزائے موت دئے جانے کی خبر کے بعد بنگلہ دیش میں اس معاملہ پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ خاص طور پر یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ متعلقہ شہریوں کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا تھا یا نہیں اور بنگلہ دیشی حکام کو اس کارروائی کے بارے میں پیشگی اطلاع کیوں نہیں دی گئی۔
ابتدائی اطلاعات میں دونوں کو میاں بیوی بتایا گیا تھا، تاہم ان کے اہل خانہ نے اس تعلق کی تردید کی ہے۔ اس معاملہ میں کارروائی کی تفصیلات اور دونوں کی سزا سے متعلق حالات پر بھی ابہام برقرار ہے۔
مختلف جیلوں میں قید ہیں 22 شہری
اطلاعات کے مطابق ان 22 بنگلہ دیشی شہریوں میں سے چھ جدہ کی ذہبان جیل، چھ شمیسی جیل اور چار جدہ جنرل جیل میں قید ہیں۔ باقی چھ شہری نجران، خمیس، الباحہ، ہدا اور جدہ کی خواتین کی جیلوں میں بند ہیں۔
بنگلہ دیشی قونصل خانہ نے سعودی حکام سے درخواست کی ہے کہ متعلقہ محکموں سے رابطہ کرکے تمام فیصلوں کی تفصیلات جلد فراہم کی جائیں، تاکہ قونصل خانہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرسکے۔
فی الحال باقی 20 شہریوں کی سزاؤں کے بارے میں کوئی واضح سرکاری تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔ ان کے مستقبل کے حوالہ سے صورتحال سعودی حکام کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔