آندھراپردیش

مچھلی کی قیمت میں غیرمعمولی اضافہ

اس تہوار کے موقع پر نہ صرف چکن اور مٹن بلکہ مچھلیوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ اس کے باوجود، نئے داماد کو مچھلی کا سالن اور چکن کھلانا ہی ہے کی روایت برقرار رکھنے کے لئے لوگ مہنگے داموں بھی خریداری کر رہے ہیں۔

حیدرآباد: سنکرانتی کے تہوار کا مطلب ہی نئے دامادوں کی آمد، مرغوں کی لڑائی اور پکوانوں کی دھوم ہے۔ آندھرا پردیش میں نئے داماد کے لئے طرح طرح کے سبزی اور گوشت کے پکوانوں کے ساتھ ضیافت کا اہتمام کرنا ایک خاص روایت ہے۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
آندھرائی افراد کی حیدرآباد واپسی، ٹول پلازہ کے قریب ٹریفک جام کی صورتحال
بچوں کے سامنے ہوم گارڈ کا خاتون کے ساتھ ’مجرا‘ — ویڈیو وائرل ہونے کےبعد محکمہ نے فوراً ڈیوٹی سے ہٹا دیا
اےپی کے وجیانگرم میں نو بیاہتا جوڑا مشتبہ حالات میں مردہ پایاگیا
آکاش ایجوکیشنل سروسز نے تلگو زبان میں یوٹیوب چینل کا آغاز کر کے امیدواروں کیلئے تعلیمی رسائی بڑھا دی

اس تہوار کے موقع پر نہ صرف چکن اور مٹن بلکہ مچھلیوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ اس کے باوجود، نئے داماد کو مچھلی کا سالن اور چکن کھلانا ہی ہے کی روایت برقرار رکھنے کے لئے لوگ مہنگے داموں بھی خریداری کر رہے ہیں۔


وشاکھاپٹنم فشنگ ہاربر پر خریداروں کا زبردست ہجوم دیکھا جا رہا ہے اور پورا علاقہ عوام سے کچھا کچھ بھرا ہوا ہے۔ عام مچھلی بھی 600 سے 700 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے جبکہ جھینگوں کی قیمت 1400 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔


خاص طور پر پومیفریٹ مچھلی کی مانگ سب سے زیادہ دیکھی جا رہی ہے جو اپنے معیار کے لحاظ سے 1500 سے 2000 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہی ہے۔


تاجروں کا کہنا ہے کہ سمندر میں لہروں کی تیزی اور موسم کی تبدیلی کی وجہ سے مچھلیاں پکڑی نہیں جارہی ہیں جو کہ سپلائی میں کمی اور قیمتوں میں اچانک اضافہ کی بنیادی وجہ بنی ہے۔

سنکرانتی کی چھٹیوں کی وجہ سے نہ صرف مقامی خریدار بلکہ وجیا نگرم اور سریکاکلم جیسے قریبی اضلاع سے بھی لوگ بڑی تعداد میں مچھلیوں کی خریداری کے لئے ویزاگ ہاربر کا رخ کر رہے ہیں۔

خریداروں کے اس غیر معمولی ہجوم کی وجہ سے ہاربر کے ارد گرد کے علاقوں میں شدید ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جس پر قابو پانے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لئے انتظامیہ کو اضافی پولیس ملازمین تعینات کرنے پڑے ہیں۔